میں جو کہتا ہوں کہ لوں تلوؤں سے اپنی خار کھینچ
میں جو کہتا ہوں کہ لوں تلوؤں سے اپنی خار کھینچ
لذتِ درد اپنی کہتی ہے نہ تو زنہار کھینچ
کون کہتا ہے نہ جاں بازوں پہ تو تلوار کھینچ
میں ہوں سر دینے کو حاضر شوق سے سو بار کھینچ
قتل کرتی ہے مجھے اب تو یہی حسرت فقط
کیوں نہ مارا مجھ کو کیوں وہ رہ گیا تلوار کھینچ
ہوچکی ہم سے خطا ابرو کے بوسے لے چکے
اب تو خنجر کھینچ ظالم مجھ پہ یا تلوار کھینچ
کیا ہی لاثانی کھنچی ثانی نہ جس کی کھنچ سکی
صانع قدرت نے لی جس دم شبیہ یار کھینچ
لاکھ سر پٹکا نہ مانا رفتہ رفتہ آخرش
لے گئی پہلو سے دل کو شوخی رفتار کھینچ
گر یہی دستِ جنوں کا زور ہے تو اے بلیغؔ
رفتہ رفتہ لےگا اک دن دامن کہسار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.