Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

شراب عشق کے مخمور کو سرشار کہتے ہیں

سخن دہلوی

شراب عشق کے مخمور کو سرشار کہتے ہیں

سخن دہلوی

شراب عشق کے مخمور کو سرشار کہتے ہیں

کسی کا ہو جودیوانہ اسےہشیار کہتے ہیں

دہن غنچہ ہے آنکھیں نرگس شہلا ہیں اے گلرو

تمہارے چہرۂ رنگیں کو ہم گلزار کہتے ہیں

بمجبوری تمہاری ہاں میں ہاں ہم بھی ملاتے ہیں

نہیں کہنے کی جو باتیں ہیں وہ نار چار کہتے ہیں

جنوں یوں تو پڑے رہتے ہیں صحرا میں بہت تنکے

چبھے جو پاؤں میں کانٹا اسی کو خار کہتے ہیں

شرار و سوز و آہ و نالہ و افغان و بے تابی

شبِ فرقت میں ان کو کو کبِ سیار کہتے ہیں

یہ کس گلرو کے شوق دید میں حالت ہوئی تیری

کہ سب اے نرگسِ شہلا تجھے بیمار کہتے ہیں

چلے ہیں ہم زبانی ان سے اپنا حال دل کہنے

ولیکن دیکھیے کیا جا کے پیش یار کہتے ہیں

یہ ضد کیسی ہے مجھ سے بات بھی سنتے نہیں میری

وہی کرتے ہو صاحب جو تمہیں اغیار کہتے ہیں

نہ جاؤ بیٹھ جاؤ ایک دو باتیں مری سن لو

ذرا کہنا ہمارا مان لو اے یار کہتے ہیں

سخن ؔکچھ قدر شاعر کی نہیں ہے اس زمانے میں

ہنسے جاتے ہیں اب وہ لوگ جو اشعار کہتے ہیں

مأخذ :
  • کتاب : دیوان سخن دہلوی (Pg. 140)
  • Author : سخن دہلوی
  • مطبع : منشی نول کشور

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے