کیوں کر میں دو بدو ہوں بتِ بے حجاب سے
کیوں کر میں دو بدو ہوں بتِ بے حجاب سے
آنکھیں ملا سکے ہے کوئی آفتاب سے
عشق بتاں میں آہ اسے چین ہی نہیں
لاچار ہوں میں اس دل خانہ خراب سے
دم کا شمار جس کو ہے منظور روز و شب
کیا خوف اس کو روز جزا کے حساب سے
ہستی میں آکے آہ گرفتار ہو گئے
فارغ تھے ہم عدم میں عذاب و ثواب سے
آگے جو دیکھا تھا سو وہ خواب و خیال تھا
اب دید ہے جو آنکھیں کھلیں میری خواب سے
فانوس بیچ شمع کا چھپنا محال ہے
روشن ہوا ہے حسن تمہارا نقاب سے
ایک دم میں چلتے پھرتے تھے ایک دم میں کچھ نہیں
بحرِ جہاں میں ہم بھی تھے اصغرؔ حباب سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.