Font by Mehr Nastaliq Web

کیوں کر میں دو بدو ہوں بتِ بے حجاب سے

سید امجد علی شاہ

کیوں کر میں دو بدو ہوں بتِ بے حجاب سے

سید امجد علی شاہ

MORE BYسید امجد علی شاہ

    کیوں کر میں دو بدو ہوں بتِ بے حجاب سے

    آنکھیں ملا سکے ہے کوئی آفتاب سے

    عشق بتاں میں آہ اسے چین ہی نہیں

    لاچار ہوں میں اس دل خانہ خراب سے

    دم کا شمار جس کو ہے منظور روز و شب

    کیا خوف اس کو روز جزا کے حساب سے

    ہستی میں آکے آہ گرفتار ہو گئے

    فارغ تھے ہم عدم میں عذاب و ثواب سے

    آگے جو دیکھا تھا سو وہ خواب و خیال تھا

    اب دید ہے جو آنکھیں کھلیں میری خواب سے

    فانوس بیچ شمع کا چھپنا محال ہے

    روشن ہوا ہے حسن تمہارا نقاب سے

    ایک دم میں چلتے پھرتے تھے ایک دم میں کچھ نہیں

    بحرِ جہاں میں ہم بھی تھے اصغرؔ حباب سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے