Font by Mehr Nastaliq Web

تصور میں تیری رہنا فراغت اس کو کہتے ہیں

سید امجد علی شاہ

تصور میں تیری رہنا فراغت اس کو کہتے ہیں

سید امجد علی شاہ

MORE BYسید امجد علی شاہ

    تصور میں تیری رہنا فراغت اس کو کہتے ہیں

    ‎خودی سے کوچ کر جانا ریاضت اس کو کہتے ہیں‎

    ‎جہاں میں آن کر خدا سے جو ہوا غافل

    یہی ہے معصیت بیشک ندامت اس کو کہتے ہیں

    ‎جہاں میں جلوہ حق دیکھنا چشم حقیقت سے

    ‎یہی ہے دید بے رنگی زیارت اس کو کہتے ہیں

    ‎نہیں ہے کشف سے کچھ مدعا اہلِ حقیقت کو

    ‎شریعت پر قدم رکھنا کرامت اس کو کہتے ہیں

    ‎حباب آسا یہاں دریائے وحدت میں فنا ہونا

    فراغت اس کو کہتے ہیں شہادت اس کو کہتے ہیں

    ‎ہر ایک ذرہ میں خورشید جہاں کو دیکھ لے اصغرؔ

    یہی انجام عرفاں ہے سعادت اس کو کہتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے