تصور میں تیری رہنا فراغت اس کو کہتے ہیں
تصور میں تیری رہنا فراغت اس کو کہتے ہیں
خودی سے کوچ کر جانا ریاضت اس کو کہتے ہیں
جہاں میں آن کر خدا سے جو ہوا غافل
یہی ہے معصیت بیشک ندامت اس کو کہتے ہیں
جہاں میں جلوہ حق دیکھنا چشم حقیقت سے
یہی ہے دید بے رنگی زیارت اس کو کہتے ہیں
نہیں ہے کشف سے کچھ مدعا اہلِ حقیقت کو
شریعت پر قدم رکھنا کرامت اس کو کہتے ہیں
حباب آسا یہاں دریائے وحدت میں فنا ہونا
فراغت اس کو کہتے ہیں شہادت اس کو کہتے ہیں
ہر ایک ذرہ میں خورشید جہاں کو دیکھ لے اصغرؔ
یہی انجام عرفاں ہے سعادت اس کو کہتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.