Font by Mehr Nastaliq Web

کیا رکھا ہے فصل گل میں جب نہ ہو دیدار ِیار

سید منال شاہ قادری

کیا رکھا ہے فصل گل میں جب نہ ہو دیدار ِیار

سید منال شاہ قادری

MORE BYسید منال شاہ قادری

    دلچسپ معلومات

    نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "گل نو دمید و بوئے زبہار من نیا مد" کا اردو منظوم ترجمہ۔

    کیا رکھا ہے فصل گل میں جب نہ ہو دیدار ِیار

    اے نسیم گل بھلا کیا دے گی تو دل کو قرار

    کیو نہ ہو مانند غنچہ دل مرا صد چاک چاک

    آتی ہے بادِ صبا لیکن نہ لائی بوئے یار

    ایک نگاہِ ناز سے میں مرغِ بسمل ہوگیا

    گر چہ قصداً وہ نہیں آئے تھے خود بہرِ شکار

    کیا خبر خسرو کی تم کو تم ہو بزمِ عیش میں

    تم نے تو دیکھی نہیں اس کی کبھی شبہائے تار

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 137)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے