کیا رکھا ہے فصل گل میں جب نہ ہو دیدار ِیار
دلچسپ معلومات
نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "گل نو دمید و بوئے زبہار من نیا مد" کا اردو منظوم ترجمہ۔
کیا رکھا ہے فصل گل میں جب نہ ہو دیدار ِیار
اے نسیم گل بھلا کیا دے گی تو دل کو قرار
کیو نہ ہو مانند غنچہ دل مرا صد چاک چاک
آتی ہے بادِ صبا لیکن نہ لائی بوئے یار
ایک نگاہِ ناز سے میں مرغِ بسمل ہوگیا
گر چہ قصداً وہ نہیں آئے تھے خود بہرِ شکار
کیا خبر خسرو کی تم کو تم ہو بزمِ عیش میں
تم نے تو دیکھی نہیں اس کی کبھی شبہائے تار
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 137)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.