وصل کا وعدہ ہے تا صبح انتظارِ یار کھینچ
وصل کا وعدہ ہے تا صبح انتظارِ یار کھینچ
تھوڑی تکلیف اور بھی اے دیدۂ بیدار کھینچ
تا نہ کہلاؤں میں ننگِ عاشقی اے چارہ گر
میری تلوؤں سے نہ خارِ وادی دلدار کھینچ
تیرا دستِ ناز نیں قاتل نہ ہو بدنام خلق
اپنی نظروں کا سا روکھا خنجر خونخوار کھینچ
سیر کوئے دلبراں آسان نہیں اے عشق باز
خون کر دل کو ہزاروں جان پر آزار کھینچ
اپنے ساقی کا ہے خمخانہ ارے دل بے دھڑک
لغرشِ مستانہ ہو وہ ساغر سرشار کھینچ
میں وہ میکش ہوں کہ دم بھر میں کروں خالی سبو
تندمئے میرے لیے پیر مغاں اک بار کھینچ
دیکھنے پائے نہ میخواروں کو میرے محتسب
جلد لوں ساغر پہ ساغر ساقیا دو چار کھینچ
ہو مزا میخانہ میں جو آج آئے محتسب
مست پکڑے کوئی دامن کوئی لے دستار کھینچ
عاشقِ جاں باز کا گر ہے ترے در پر ہجوم
دیکھنا کیا ہے تجھے لے میان سے تلوار کھینچ
اس کماں ابرو کی دوری میں جو تن زہ ہوگیا
وصل ہونے کے لیے چلے کوئی دو چار کھینچ
لذتِ ایذا ملی مطلق نہ فوراً چبھ گیا
میرے زخمِ دل سے ایسا نشتر بیکار کھینچ
سیدیؔ منظور ہے تجھ کو جو ہر دم دید حسن
کلک جاں سے صفحۂ دل پر شبیہ یار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.