Font by Mehr Nastaliq Web

تجلیات سجادیہ

احمد رضا اشرفی

تجلیات سجادیہ

احمد رضا اشرفی

MORE BYاحمد رضا اشرفی

    خانقاہیں شریعت و طریقت کا سنگم اور رشد و ہدایت کا سرچشمۂ حیات ہوا کرتی ہیں، فقر و درویشی، تقویٰ شعاری، شب بیداری اور نفس و کتاب و سنت پر عمل، اہل خانقاہ کے امتیازات ہیں، دلوں کو مسخر کرنے والے اوصاف و کمالات کی حامل خانقاہ ’’خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ‘‘، صدیوں سے برصغیر میں رشد و ہدایت کا مرکز انوار بنی ہوئی ہے۔

    اسی خانقاہ کے مشہور بزرگ حضرت شاہ اکبر داناپوری اپنے صاحبزادے کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

    ’’نور چشم محمد محسن مد عمرہ، یہ خیال نہ کرنا کہ میں ایسے بزرگ کا پوتا ہوں جو بادشاہ کے قلعے میں نہ گیا، بلکہ ایسی شان پیدا کرنا کہ جو ریا سے خالی ہو اور بادشاہوں کی صحبت سے مستغنی کردے‘‘ (مولد فاطمی)

    صوفیا اور مشائخ کی زندگی میں توکل و استغنا، جود و سخا، ایثار و قربانی اور ’’رضائے مولیٰ از ہمہ اولیٰ‘‘ کی حیرت انگیز مثالیں ملتی ہیں، جو عقلوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہیں، حضرت جنید بغدادی اپنے اصحاب سے فرماتے تھے کہ

    ’’اگر تم سے ہو سکے تو تمہارے گھر میں سوائے ٹھیکری کے برتن کے اور کوئی برتن نہ ہو، تو ایسا ہی کرنا‘‘(رسالہ قشیریہ)

    تاریخ شاہد ہے کہ سلاطین زمانہ اکثر ان کی دہلیز پر سر خمیدہ نظر آئے، لیکن ان کے قدم شاہی محلوں کی جانب نہ اٹھے۔ اسی خانقاہ کے معرف بزرگ حضرت سید الطریقت شاہ محمد قاسم ابوالعلائی داناپوری کے بارے میں لکھا گیا کہ

    ’’دہلی میں ایک مرتبہ سلطان المشائخ حضرت محبوب الٰہی کے عرس میں حضرت سید الطریقت پہ کیفیت طاری تھی۔ امرا و مشائخ رونق افروز تھے۔ آخری مغل تاجدار، بہادر شاہ ظفر، بھی شریک مجلس تھے۔ بہادر شاہ ظفر کو آپ کی ملاقات کا اشتیاق ہوا اور آپ کی خدمت میں مفتی صدرالدین اکبرآبادی کے توسط سے شاہی محل میں تشریف فرما ہونے کا دعوت نامہ بھیجا، مگر آپ نے بعض پسندیدہ عذرات سے اس پیغام سے کنارہ کشی اختیار فرمایا۔‘‘(تذکرۃ الکرام، ص 708)

    یہی بزرگ سب سے پہلے خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ میں 19 رمضان المبارک کو حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہ الکریم کے نام سے فاتحہ اور اجتماعی افطار کا اہتمام کرنے والے تھے، جو آج بھی نہایت حسن و خوبی کے ساتھ جاری ہے۔

    موجودہ دور میں اگرچہ خانقاہیں پرنور ہیں، اہل خانقاہ کے دل بعض اوقات بے نور نظر آتے ہیں، اور اہل دولت و ثروت پیر کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ مگر اب بھی کچھ سفیرانِ عشق و عرفان ایسے ہیں جن کے دلوں کی دھڑکن سے سلوک و معرفت کی دنیا میں تپش حیات ہے۔ اسی اقلیم معرفت کی ایک نمایندہ خانقاہ ہے ’’خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ‘‘ (شاہ ٹولی، داناپورکینٹ، ضلع پٹنہ)، جو اخلاص و للٰہیت کی جلوہ سامانیوں کے ساتھ خانقاہی وقار قائم رکھے ہوئے ہے۔

    اہم خصوصیات اور خدمات : علم دوستی، تقویٰ شعاری، حق گوئی توکل و استغنا اور ایثار و قربانی سجادگان خانقاہ ہمیشہ بطور مثال پیش کیے جاتے رہے

    علمی خدمات کی مثالیں : ضلع کشن گنج، بشن پور میں ’’مدرسہ فیضانِ ظفر‘‘ کا قیام، سن 2007 مدرسہ تشنگان علوم دینیہ و نبویہ کو سیراب کر رہا ہے، تعمیراتی کام اور تمام تر ضروریات کا انتظام حضور صاحب سجادہ حضرت حاجی سید شاہ سیف اللہ ابوالعلائی مدظلہٗ کے زیر نگرانی یہ خانقاہ اپنے روایتی اصولوں اور علمی سرگرمیوں کے ذریعے آج بھی برصغیر میں صوفیانہ تعلیم و تربیت کا قلعہ ہے۔

    خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ علم و عمل، شریعت و طریقت اور رشد و ہدایت کا دیرینہ مرکز رہی ہے۔ اس کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں علم پر اتنا زور دیا گیا جتنا اسے عملی جامہ پہنانے پر۔ اس خانقاہ کے سجادگان نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں علمی مراکز قائم کیے، جہاں فی الواقع اس کی ضرورت تھی، جیسے آگرہ، الہ آباد، کشن گنج، ارریہ، چٹگام، گوالیار، حیدرآباد، رانچی، لاہور، کراچی وغیرہ۔

    ان علمی مراکز کی سرپرستی و صدارت بھی اس خانقاہ کے سجادگان کے مضبوط کاندھوں پر رہی، اور ان کے فیوض و براکات سے ہند کی علمی و ادبی مشعلیں روشن ہوئیں۔

    تصانیف و تالیف کا کام : خانقاہ میں ہر دور میں تصانیف و تالیف کا کام جاری رہا، خاص طور پر حضرت شاہ اکبر داناپوری کے عصر میں یہ کام زور و شور سے چل رہا تھا۔ حضرت نے سیکڑوں کتب، مقالات اور رسائل تصنیف و تالیف فرمائے، جو تصوف، تاریخ، احکام اسلام اور عقائد دینیہ پر مشتمل ہیں۔ چند اہم تصانیف درج ذیل ہیں۔ اخبار العشق، سرمئہ بینائی، شور قیامت، ادراک، ارادہ، نذر محبوب، احکام نماز، مولد فاطمی، چہل حدیث، تاریخ عرب (2 جلدیں)، سیر دہلی، اشرف التواریخ (3 جلدیں)

    حضرت شاہ اکبر داناپوری کی تصانیفات نثر تک محدود نہیں رہیں بلکہ نظم میں بھی وہ امامت کے درجہ پر فائز تھے۔ وہ ہم عصر شاعر اکبر الہ آبادی کے ساتھ درسگاہ استاذ الشعرا وحید الہ آبادی میں زیر تعلیم رہے۔

    شعری تصنیفات : حضرت کے دو عظیم دیوان مشہور ہیں۔

    ’’تجلیات عشق‘‘

    ’’جذبات اکبر‘‘

    تیسرا دیوان ’’تشنہ طبع’’ رہ گیا۔ حضرت کی شاعری سراپا عجز و انکساری، توکل و استغنا اور عشق الٰہی و خوف محشر سے لبریز تھی۔ چند اشعار:

    جو بنے آئینہ وہ تیرا تماشہ دیکھے،

    اپنی صورت میں تیرے حسن کا جلوہ دیکھے۔

    ڈوب کر بحر محبت میں نکلنا کیسا،

    پار ہونے کی تمنا ہے تو ڈوبے رہنا۔

    ہے خطاب اس رند کا مست الست،

    جو شراب عشق کا سرشار ہے۔

    حضرت شاہ اکبر داناپوری کی والدہ ماجدہ اور بچپن کا واقعہ : چالیس دن بعد حضرت کی والدہ ماجدہ نے حضرت سیدنا امیر ابوالعلا کے مزار پر چالیس روز کی نیت سے اعتکاف کیا۔ اس دوران حضرت نے خواب میں دیکھا کہ مزار مقدس شق ہوا اور حضرت سیدنا امیر ابوالعلا متجلی صورت میں بچہ کو گود میں لے کر پیار فرمایا۔ والدہ نے یہ خواب بیان کیا تو حضرت کے چچا صاحب نے خوش ہو کر فرمایا کہ

    ’’یہ بچہ اقبال مند ہوگا اور سلسلۂ ابوالعلائیہ کو فروغ دے گا‘‘

    خانقاہ کی موجودہ خدمات اور سجادہ نشیں : خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ آج بھی اخلاص و للٰہیت کے ساتھ خانقاہی وقار قائم رکھے ہوئے ہے۔ یہ علم دوستی، غربا پروری، توکل و استغنا، ایثار و قربانی اور حق گوئی کا مرکز ہے۔ اس خانقاہ نے رمضان المبارک کی 19 تاریخ اور طالبان علوم نبویہ کے لیے دسترخوان ہمیشہ کھلا رکھا، کیونکہ اس خاندان کی روایت ہے کہ

    ’’خود بھوکے رہنا گوارا لیکن اولاد آدم کو شکم سیر کرنا جان سے بھی زیادہ پیارا‘‘

    موجودہ سجادہ نشیں حضرت حاجی سید شاہ سیف اللہ ابوالعلائی مدظلہٗ ہیں، جن کی محنت و انتھک خدمات کی بدولت خانقاہ کے علمی، روحانی اور سماجی افکار و نظریات موجودہ حالات میں بھی زندہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں دائمی صحت و تندرستی عطا فرمائے اور ان کا سایہ تا دیر قائم رکھے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے