تخت زریں بادشاہوں کے لیے
تخت زریں بادشاہوں کے لیے
بوریا عالم پناہوں کے لیے
آڑے آتا ہے مصیبت میں وہی
وہ سپر ہے بے پناہوں کے لیے
رحمت حق ہم گنہ گاروں کا حق
زہد و تقویٰ بے گناہوں کے لیے
چشم جوہر ہے مرے قاتل کی تیغ
خون روئی بے گناہوں کے لیے
یا نبی پکڑا ہے دامن آپؐ کا
ہے یہی بخشش گناہوں کے لیے
اللہ اللہ جب لیا اللہ کا نام
ابر رحمت تھا گناہوں کے لیے
عشق کی منزل سے ناواقف ہیں خضر
دل ہے رہبر ایسی راہوں کے لیے
ہم فقیروں کی یہی ہے کائنات
بوریا حاضر ہے شاہوں کے لیے
ہے وہی دو گز زمیں دس گز کفن
ہم گداؤں اور شاہوں کے لیے
اس طرف آئے نہ اکبرؔ تیر غم
ہے یہ دل ناوک نگاہوں کے لیے
- کتاب : جذاباتِ اکبر (Pg. 185)
- Author :شاہ اکبرؔ داناپوری
- مطبع : آگرہ اخبار پریس، آگرہ (1915)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.