رہبر اپنی آج گر تقدیر ہو
رہبر اپنی آج گر تقدیر ہو
اپنے پہلو میں بت بے پیر ہو
پھونک دوں میں عرش تک اے سوز دل
میرے نالوں میں اگر تاثیر ہو
دل کے بہلا نے کو میرے قبر میں
مئے بھی ہو اور یا کی تصویر ہو
اچھے ہونےکے نہیں بیمار عشق
گو دوا ہو لاکھ سو تدبیر ہو
بوسہ دینے سے تمہیں انکار ہے
کیا میرے دلبر تمہیں تقدیر ہو
مجھ سے دیوانہ کے پاؤں میں دلا
زلف جاناں کی پڑی زنجیر ہو
مدح حیدر سے عجب کیا نیم جاںؔ
سر پہ ظل حضرت شبیر ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.