اے فلک لے چل مدینے کو خدا کے واسطے
اے فلک لے چل مدینے کو خدا کے واسطے
دل تڑپتا ہے حبیبِ کبریا کے واسطے
لائے بندہ یہ کہاں سے حق تعالیٰ کی زباں
احمدِ مرسل تری وصف و ثنا کے واسطے
باغ میں جا کر پڑھا جب روحِ احمد پر درود
کھل گئے غنچوں کے لب صل علیٰ کے واسطے
ہوتی ہے مقبول درگاہ خدا بہر نبی
ہاتھ جب امت اٹھاتی ہے دعا کے واسطے
اڑ گیا حضرت کا سایہ چرخ پر بن کر ہما
کیوں نہ ہوں مشتاق سب ظلِ ہما کے واسطے
سن لیا ہے جب سے تم کو رحمۃ للعالمیں
کس قدر بے باک ہیں عاصی خطا کے واسطے
اے خدیوِ دوجہاں وہ ہے ترا ایوانِ عدل
ایک رتبہ ہے جہاں شاہ و گدا کے واسطے
گور کی گرمی سے گھبرایا جو مداحِ رسول
کھل گئی جنت کی کھڑکی بس ہوا کے واسطے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.