Font by Mehr Nastaliq Web

اے فلک لے چل مدینے کو خدا کے واسطے

نا معلوم

اے فلک لے چل مدینے کو خدا کے واسطے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    اے فلک لے چل مدینے کو خدا کے واسطے

    دل تڑپتا ہے حبیبِ کبریا کے واسطے

    لائے بندہ یہ کہاں سے حق تعالیٰ کی زباں

    احمدِ مرسل تری وصف و ثنا کے واسطے

    باغ میں جا کر پڑھا جب روحِ احمد پر درود

    کھل گئے غنچوں کے لب صل علیٰ کے واسطے

    ہوتی ہے مقبول درگاہ خدا بہر نبی

    ہاتھ جب امت اٹھاتی ہے دعا کے واسطے

    اڑ گیا حضرت کا سایہ چرخ پر بن کر ہما

    کیوں نہ ہوں مشتاق سب ظلِ ہما کے واسطے

    سن لیا ہے جب سے تم کو رحمۃ للعالمیں

    کس قدر بے باک ہیں عاصی خطا کے واسطے

    اے خدیوِ دوجہاں وہ ہے ترا ایوانِ عدل

    ایک رتبہ ہے جہاں شاہ و گدا کے واسطے

    گور کی گرمی سے گھبرایا جو مداحِ رسول

    کھل گئی جنت کی کھڑکی بس ہوا کے واسطے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے