نہیں معلوم کیا بغض و حسد کا فیصلا ٹھہرے
نہیں معلوم کیا بغض و حسد کا فیصلا ٹھہرے
میری تقصیر ثابت ہو کہ غیروں کی خطا ٹھہرے
جنوں کم ہو مزاج اپنا ابھی اصلاح پر آئے
جو فصل گل میں دم بھر زلف جا ناں کی ہوا ٹھہرے
لیا بوسہ تو صحت ہوگئی درد جدائی سے
تمہارے خال عارض اے حسیں حب شفا ٹھہرے
تڑپتا ہوں برنگ مرغ بسمل بستر غم پر
جو تم پہلو سے لگ بیٹھو تو درد دل ذرا ٹھہرے
بھلا کس طرح بھولے کوچہ گیسو کی دل راہیں
کہ خضر شوق راہ عشق میں جب رہنما ٹھہرے
نہ پوری بات مجھ سے کی نہ میرا حال کچھ پوچھا
جو وہ آئے تو کیا آئی جو وہ ٹھہرے تو کیا ٹھہرے
کیا کرتے ہیں سجدے کیوں برہمن روبرو ان کے
معاذ اللہ بت پتھر کی کیا ٹھہرے خدا ٹھہرے
جو وہ جور و جفا کرتے ہیں ہم پر دل میں کہتے ہیں
جو دہرائیں کسی سے حال ان کا تو گلا ٹھہرے
ہتھیلی صورت آئینہ ایسی ہو صفا ان کی
بھلا کیا دخل دم بھر ہاتھ میں رنگِ حنا ٹھہرے
پیام وصل میں نے اس پری پیکر کو بھیجا ہے
بڑی تشویش اس کی ہے نہیں معلوم کیا ٹھہرے
شروع عشق میں اے نورؔ اک سو دیکھا عالم ہے
خدا جانے کہ اس آغاز کا انجام کیا ٹھہرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.