بہار آئی دہن غنچوں کے خنداں ہوتے جاتے ہیں
بہار آئی دہن غنچوں کے خنداں ہوتے جاتے ہیں
چمن میں آتش افروزی کے ساماں ہوتے جاتے ہیں
مریض غم ادھر ہر روز بے جاں ہوتے جاتے ہیں
تغافل پرادھردہ اپنے نازاں ہوتے جاتے ہیں
قیامت ڈھائیں گے اک خلق پامالِ ستم ہوگی
یہ خوش قد رفتہ رفتہ آفتِ جاں ہوتے جاتے ہیں
دم شکوہ بگڑتے ہیں بناتے ہیں وہ گو باتیں
مگر وعدہ خلافی سے پشیماں ہوتے جاتے ہیں
نہیں منظور جو اظہار ان کو اپنے جلوہ کا
دلوں میں وہ بشکلِ راز پنہاں ہوتے جاتے ہیں
وہاں گیسو بناتے ہیں وہ خاطر جمع سے گھر میں
یہاں ہم بد گمانی سے پریشاں ہوتے جاتے ہیں
کمال آفتاب حسن ہے جوش جوانی ہے
وہ دن دن غیرت خورشید تاباں ہوتے جاتے ہیں
تمہارے خانۂ دل کی طرح دنیا میں اے قیصرؔ
ہزاروں گھر یوں ہی آباد و ویراں ہوتے جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.