Font by Mehr Nastaliq Web

بہار آئی دہن غنچوں کے خنداں ہوتے جاتے ہیں

نا معلوم

بہار آئی دہن غنچوں کے خنداں ہوتے جاتے ہیں

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    بہار آئی دہن غنچوں کے خنداں ہوتے جاتے ہیں

    چمن میں آتش افروزی کے ساماں ہوتے جاتے ہیں

    مریض غم ادھر ہر روز بے جاں ہوتے جاتے ہیں

    تغافل پرادھردہ اپنے نازاں ہوتے جاتے ہیں

    قیامت ڈھائیں گے اک خلق پامالِ ستم ہوگی

    یہ خوش قد رفتہ رفتہ آفتِ جاں ہوتے جاتے ہیں

    دم شکوہ بگڑتے ہیں بناتے ہیں وہ گو باتیں

    مگر وعدہ خلافی سے پشیماں ہوتے جاتے ہیں

    نہیں منظور جو اظہار ان کو اپنے جلوہ کا

    دلوں میں وہ بشکلِ راز پنہاں ہوتے جاتے ہیں

    وہاں گیسو بناتے ہیں وہ خاطر جمع سے گھر میں

    یہاں ہم بد گمانی سے پریشاں ہوتے جاتے ہیں

    کمال آفتاب حسن ہے جوش جوانی ہے

    وہ دن دن غیرت خورشید تاباں ہوتے جاتے ہیں

    تمہارے خانۂ دل کی طرح دنیا میں اے قیصرؔ

    ہزاروں گھر یوں ہی آباد و ویراں ہوتے جاتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے