غضب کر رہی ہیں ادائیں تمہاری
ستم ڈھا رہی ہیں جفائیں تمہاری
ہمیں کیا غرض لیں بلائیں تمہاری
وہ لیں جو اٹھائیں جفائیں تمہاری
چھری بن کے پھرتی ہے ان کے جگر پر
نگاہیں ہماری ادائیں تمہاری
الٰہی ہمیشہ رقیبوں کے سر ہوں
بلائیں ہماری جفائیں تمہاری
قسم لے لو مجھ سے میرے ہاتھ ٹوٹیں
اگر لی ہوں میں نے بلائیں تمہاری
وہی تم ہو جو کہ دغا کی تھی مجھ سے
چلو دیکھ لیں بس وفائیں تمہاری
وفادار بن لوتم آپ اپنے منہ سے
مجھے یاد ہیں سب جفائیں تمہاری
شب وصل احسنؔ کو ڈھارس بندھا جا
ہیں تسکین دل یہ نگاہیں تمہاری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.