مرگِ اغیار لب پہ لا نہ سکا
دلچسپ معلومات
نوٹ : غزل کا پہلا شعر نسیم دہلوی کی ایک غزل کا مطلع ہے۔
مرگِ اغیار لب پہ لا نہ سکا
وہ قسم ہوں کہ یار کھا نہ سکا
اس قدر ضعف تھا کہ تیرا ناز
تھی تمنا مگر اٹھا نہ سکا
نخل دیکھو تو میری تربت پر
ایک آنسو بھی وہ گرا نہ سکا
نہ ملا کوئی وقتِ تنہائی
حالِ دل یار کو سنا نہ سکا
دیکھ کر بد دماغیاں ان کی
نامہ برخط مرا سنا نہ سکا
آرزو مند رہ گیا مجنوں
میرے آگے فروغ پا نہ سکا
کیا ندامت ہوئی ہے بس اے جاں
ناز خنجرؔ گلو اٹھا نہ سکا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.