کسی حسین کی محبت خدا کسی کو نہ دے
کسی حسین کی محبت خدا کسی کو نہ دے
برا خیال بری مت خدا کسی کو نہ دے
جہاں میں حسن کی دولت خدا کسی کو نہ دے
جو دے تو ظلم کی عادت خدا کسی کو نہ دے
جگر کو تاب نہ تسکین دل نہ جاں کو قرار
ہماری سی شب فرقت خدا کسی کو نہ دے
کسی کے بس میں کسی کا نہ ہو دل مضطر
کسی کی لے کے امانت خدا کسی کو نہ دے
جو موت آئے شب غم تو اس سے بہتر ہے
مگر یہ داغ محبت خدا کسی کو نہ دے
ہمارا جیسا ہے دل ایسا دے خدا سب کو
تمہاری سی یہ طبیعت خدا کسی کو نہ دے
کسی کا داغ جدائی کسی کے دل میں نہ ہو
کسی کے وصل کی حسرت خدا کسی کو نہ دے
اٹھا کے پردہ رخ کہتا ہے وہ آئینہ رو
ہمارے حسن سے حیرت خدا کسی کو نہ دے
جو میرے دل پہ گذرتی ہے میں ہی واقف ہوں
جو آج مجھ پہ ہے آفت خدا کسی کو نہ دے
تجھی کو اے بت کافر خدا سے سب جانیں
مزا ہو روز قیامت خدا کسی کو نہ دے
تیرا خیال بھی لیتا ہے چٹکیاں دل میں
یہ آرزوئے شب فرقت خدا کسی کو نہ دے
حیا و حسن دے اخلاق دے مروت دے
مگر یہ کبریہ نخوت خدا کسی کو نہ دے
یہ شوخیاں یہ ادائیں یہ نازیہ غمزے
یہ بانکپن یہ نزاکت خدا کسی کو نہ دے
ہمارے ذکر سے افضلؔ کسی کا شاد ہو دل
ہمارے نام سے نفرت خدا کسی کو نہ دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.