نئے سر سے سودا ہوا چاہتا ہے
صنم مجھ کو گر کیا خدا چاہتا ہے
کوئی دم میں بجلی گرے گی چمن پر
وہ گل کھلکھلا کر ہنسا چاہتا ہے
جو منظور ہو ساتھ چلنا تو آؤ
مسافر سرا سے اٹھا چاہتا ہے
شفا مجھ کو ہووے گر آویں مسیحا
یہ بیمار آخر ہوا چاہتا ہے
لگا ہے یہ بازار اب عاشقوں کا
دلِ مشتریؔ اب بکا چاہتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.