دکھلا کے اک جھلک جو وہ روپوش ہوگئے
دکھلا کے اک جھلک جو وہ روپوش ہوگئے
کیا کیا خیال خواب فراموش ہوگئے
وہ نیم و عدہ کر کے فراموش ہوگئے
امیدوار ہوش سے بیہوش ہوگئے
بیٹھے ہم ان کے پاس تکلف اٹھا دیا
ہمدوش ہوتے ہوتے ہم آغوش ہوگئے
یاد آگئے مزے جو پس مرگ وصل کے
تربت کے گوشے حور کے آغوش ہوگئے
ماتم ہی طفل اشک کا یا دل کا سوگ ہے
کیوں مردمانِ دیدہ سیہ پوش ہوگئے
آمد ہوئی جو ان کی خبر غش نے آکے دی
قربان مجھ سے پہلے مرے ہوش ہوگئے
یارانِ رفتہ بات کا دیتے نہیں جواب
کیا کہہ دیا قضا نے کہ خاموش ہوگئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.