Font by Mehr Nastaliq Web

فکر عصیاں کی نہیں کچھ غم فردا کیسا

نا معلوم

فکر عصیاں کی نہیں کچھ غم فردا کیسا

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    فکر عصیاں کی نہیں کچھ غم فردا کیسا

    ناز رحمت پہ تری ہے مجھے کیسا کیسا

    سحر باتوں میں ہے دشمن کی خدایا کیسا

    اس پر یرو کو ہے شیشے میں اتارا کیسا

    یاد کو تیری جگہ اب نہیں ملتی افسوس

    یاس و حسرت کا ہوا دل میں ٹھکانا کیسا

    حور کا نام بھی لب تک نہیں آتا میرے

    پھر دمِ باز پسیں شکوۂ بیجا کیسا

    بے حجاب اب تو رقیبوں سے ملاقاتیں ہیں

    شرم ہی آنکھ سے جب اٹھ گئی پردا کیسا

    سن لیے حور کے اوصاف جناب واعظ

    کہیے انصاف سے اس کا ہے سراپا کیسا

    مرنے دیتی نہیں فرقت میں تمنائے وصال

    ہر گھڑی موت کا سر پر ہے تقاضا کیسا

    ان پر الزامِ محبت نہ لگائے کوئی

    میری رسوائی کالوگوں میں ہے چرچا کیسا

    موت بھی آکے برے وقت میں ٹل جاتی ہے

    اس کے وعدے کا دلِ زار بھروسا کیسا

    ملتفت حور سے ہونا ہی نہ تھا جنت میں

    کیا کہوں ہائے ہوا ہے مجھے دھوکا کیسا

    چلتے پھرتے کہیں موجدؔ تو نہیں جا نکلا

    آج اس کوچے میں ہے حشر سا برپا کیسا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے