فکر عصیاں کی نہیں کچھ غم فردا کیسا
فکر عصیاں کی نہیں کچھ غم فردا کیسا
ناز رحمت پہ تری ہے مجھے کیسا کیسا
سحر باتوں میں ہے دشمن کی خدایا کیسا
اس پر یرو کو ہے شیشے میں اتارا کیسا
یاد کو تیری جگہ اب نہیں ملتی افسوس
یاس و حسرت کا ہوا دل میں ٹھکانا کیسا
حور کا نام بھی لب تک نہیں آتا میرے
پھر دمِ باز پسیں شکوۂ بیجا کیسا
بے حجاب اب تو رقیبوں سے ملاقاتیں ہیں
شرم ہی آنکھ سے جب اٹھ گئی پردا کیسا
سن لیے حور کے اوصاف جناب واعظ
کہیے انصاف سے اس کا ہے سراپا کیسا
مرنے دیتی نہیں فرقت میں تمنائے وصال
ہر گھڑی موت کا سر پر ہے تقاضا کیسا
ان پر الزامِ محبت نہ لگائے کوئی
میری رسوائی کالوگوں میں ہے چرچا کیسا
موت بھی آکے برے وقت میں ٹل جاتی ہے
اس کے وعدے کا دلِ زار بھروسا کیسا
ملتفت حور سے ہونا ہی نہ تھا جنت میں
کیا کہوں ہائے ہوا ہے مجھے دھوکا کیسا
چلتے پھرتے کہیں موجدؔ تو نہیں جا نکلا
آج اس کوچے میں ہے حشر سا برپا کیسا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.