Font by Mehr Nastaliq Web

کچھ جوانی ہے ابھی کچھ ہے لڑکپن ان کا

نا معلوم

کچھ جوانی ہے ابھی کچھ ہے لڑکپن ان کا

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    کچھ جوانی ہے ابھی کچھ ہے لڑکپن ان کا

    دو دغا بازوں کے پھندے میں ہے جوبن ان کا

    یا الٰہی یہ تمنا ہے کہ روزِ محشر

    لب پہ ہو نام ترا ہاتھ میں دامن ان کا

    توڑ کر تختۂ مرقد کو نکل آؤں گا

    بے کسی نام نہ لینا سرِ مدفن ان کا

    ہائے اس عشق نے دونوں کو بنایا کافر

    برہمن نام ہے میرا بت پر فن ان کا

    وصل میں کیا ہے مرے پاس جو میں نذر کروں

    دل اداؤں کا جگر ناز کا تن من ان کا

    وصل نے لوٹ لیا دونوں کو تنہا پا کر

    آج میرا نہ گریباں ہے نہ دامن ان کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے