کچھ جوانی ہے ابھی کچھ ہے لڑکپن ان کا
کچھ جوانی ہے ابھی کچھ ہے لڑکپن ان کا
دو دغا بازوں کے پھندے میں ہے جوبن ان کا
یا الٰہی یہ تمنا ہے کہ روزِ محشر
لب پہ ہو نام ترا ہاتھ میں دامن ان کا
توڑ کر تختۂ مرقد کو نکل آؤں گا
بے کسی نام نہ لینا سرِ مدفن ان کا
ہائے اس عشق نے دونوں کو بنایا کافر
برہمن نام ہے میرا بت پر فن ان کا
وصل میں کیا ہے مرے پاس جو میں نذر کروں
دل اداؤں کا جگر ناز کا تن من ان کا
وصل نے لوٹ لیا دونوں کو تنہا پا کر
آج میرا نہ گریباں ہے نہ دامن ان کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.