Font by Mehr Nastaliq Web

رکتا نہیں ہے خوف کبھی دل میں تار کا

وفا اکبرآبادی

رکتا نہیں ہے خوف کبھی دل میں تار کا

وفا اکبرآبادی

MORE BYوفا اکبرآبادی

    رکتا نہیں ہے خوف کبھی دل میں تار کا

    امیدوار رحمتِ پروردگار کا

    پیشِ نظر ہے عارضِ رنگین یار کا

    ہر وقت کر رہا ہوں نظارا بہار کا

    ہر ایک تختہ کانپ رہا ہے مزار کا

    اللہ رے اضطراب دلِ بے قرار کا

    اس دم قرار گوشہ تربت میں بھی نہیں

    اللہ رے اضطراب دل بے قرار کا

    آیا جو فاتحہ کو وہ گل بے نقاب آج

    گل ہوگیا چراغ ہمارے مزار کا

    دل میں ہے درد لب پہ فغاں اور جگر میں ٹیس

    یہ حال ہے ہمارے دل بے قرار کا

    بعد فنا وفاؔ کی ہیں آنکھیں کھلی ہوئی

    اب بھی ہے انتظار اسی غفلت شعار کا

    مأخذ :
    • کتاب : Najat-e-Wafa (Pg. 07)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے