مشورے ہیں یہ دل ناکام کے
بیٹھے رہیے ان کا دامن تھام کے
روئے انور زلفِ عنبر فام کے
اف وہ نظارے سحر کے شام کے
بے وفا جب پھر گئیں آنکھیں تری
پھر گلے کیا گردش ایام کے
ہائے وہ مستی بھری ساقی کی آنکھ
ہائے وہ جلوے چھلکتے جام کے
جرعہ مئے کے لیے پینے پڑے
جام کتنے تلخی ایّام کے
آج کچھ ایسی ہی دل پر بن گئی
درد اٹھا ہے کلیجہ تھام کے
نام توان کا نکالا ہے وفاؔ
اور اگر وہ بھی ہوں اپنے نام کے
- کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 323)
- Author : عرفان عباسی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.