Font by Mehr Nastaliq Web

کرتے ہیں جو کچھ بتان بے وفا کس سے کہیں

وحید الہ آبادی

کرتے ہیں جو کچھ بتان بے وفا کس سے کہیں

وحید الہ آبادی

MORE BYوحید الہ آبادی

    کرتے ہیں جو کچھ بتان بے وفا کس سے کہیں

    کون سنتا ہے ہماری اے خدا کس سے کہیں

    مدتوں سے لوٹتے ہیں بستر انددہ پر

    دردِ دل کی کون لائے گا دوا کس سے کہیں

    آپ تو اوروں سے بھی کر لیتے ہیں مطلب کی بات

    ہم کہا چاہیں تو اپنا مدعا کس سے کہیں

    تو نے دروازے پر ان کی خاک تک رہنے نہ دی

    اپنی بربادی کا قصہ اے صبا کس سے کہیں

    وہ ادھر آرام کرتے ہیں ادھر بادِ صبا

    لے اڑی ہے نکہت زلف دوتا کس سے کہیں

    آپ نے تو کہہ دیا ہم سے نہ کہیے حال دل

    یہ تو فرما دیجیے آخر بھلا کس سے کہیں

    سب تو بیگانہ نظر آتے ہیں ہم کو اے وحیدؔ

    کس کے آگے روئیں حال آشنا کس سے کہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے