کرتے ہیں جو کچھ بتان بے وفا کس سے کہیں
کرتے ہیں جو کچھ بتان بے وفا کس سے کہیں
کون سنتا ہے ہماری اے خدا کس سے کہیں
مدتوں سے لوٹتے ہیں بستر انددہ پر
دردِ دل کی کون لائے گا دوا کس سے کہیں
آپ تو اوروں سے بھی کر لیتے ہیں مطلب کی بات
ہم کہا چاہیں تو اپنا مدعا کس سے کہیں
تو نے دروازے پر ان کی خاک تک رہنے نہ دی
اپنی بربادی کا قصہ اے صبا کس سے کہیں
وہ ادھر آرام کرتے ہیں ادھر بادِ صبا
لے اڑی ہے نکہت زلف دوتا کس سے کہیں
آپ نے تو کہہ دیا ہم سے نہ کہیے حال دل
یہ تو فرما دیجیے آخر بھلا کس سے کہیں
سب تو بیگانہ نظر آتے ہیں ہم کو اے وحیدؔ
کس کے آگے روئیں حال آشنا کس سے کہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.