Font by Mehr Nastaliq Web

دل ہوا ہے مائل زلف دوتا کس سے کہیں

واحد علی مشتاق

دل ہوا ہے مائل زلف دوتا کس سے کہیں

واحد علی مشتاق

MORE BYواحد علی مشتاق

    دل ہوا ہے مائل زلف دوتا کس سے کہیں

    آپ سے میں نے خریدا یہ بلا کس سے کہیں

    طالع برگشتہ کا اپنے گلا کس سے کہیں

    بے سبب رہتے ہیں وہ مجھ سے خفا کس سے کہیں

    شام سے اختر شماری کرتے ہیں ہم رات بھر

    تا سحر آتا نہیں وہ مہ لقا کس سے کہیں

    دام الفت میں ترے آکر پھنسا دل آپ سے

    شکوۂ بےفائدہ زلف رسا کس سے کہیں

    کوئی بھی سنتا نہیں فریاد بلبل کیا کہیں

    گل چراغ اپنا ہوا جاتا ہے جا کس سے کہیں

    اے گل رعنا کرم بلبل پہ اب فرمائیے

    یہ پیام اپنا صبا تیرے سوا کس سے کہیں

    عاشقِ ناکام کی تقصیر کو کرنا معاف

    کون مونس ہے مرا کون آشنا کس سے کہیں

    ہے بلائے رستخیز عاقبت کا خوف و بیم

    جز ترے اے شافع روز جزا کس سے کہیں

    اب دل مشتاقؔ ہے تری عطا کا مستمند

    کون مرشد آپ سا ہے رہنما کس سے کہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے