دل ہوا ہے مائل زلف دوتا کس سے کہیں
دل ہوا ہے مائل زلف دوتا کس سے کہیں
آپ سے میں نے خریدا یہ بلا کس سے کہیں
طالع برگشتہ کا اپنے گلا کس سے کہیں
بے سبب رہتے ہیں وہ مجھ سے خفا کس سے کہیں
شام سے اختر شماری کرتے ہیں ہم رات بھر
تا سحر آتا نہیں وہ مہ لقا کس سے کہیں
دام الفت میں ترے آکر پھنسا دل آپ سے
شکوۂ بےفائدہ زلف رسا کس سے کہیں
کوئی بھی سنتا نہیں فریاد بلبل کیا کہیں
گل چراغ اپنا ہوا جاتا ہے جا کس سے کہیں
اے گل رعنا کرم بلبل پہ اب فرمائیے
یہ پیام اپنا صبا تیرے سوا کس سے کہیں
عاشقِ ناکام کی تقصیر کو کرنا معاف
کون مونس ہے مرا کون آشنا کس سے کہیں
ہے بلائے رستخیز عاقبت کا خوف و بیم
جز ترے اے شافع روز جزا کس سے کہیں
اب دل مشتاقؔ ہے تری عطا کا مستمند
کون مرشد آپ سا ہے رہنما کس سے کہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.