وقت پیری تو کچھ اے قد دوتا ہو جانا
وقت پیری تو کچھ اے قد دوتا ہو جانا
جھک جھکا کر خمِ محراب دعا ہو جانا
یاد ہے طور پہ اک حشر بپا ہو جانا
اب نہ پے پردہ کہیں جلوہ نما ہو جانا
دیکھنا ہے جو تمہیں خاک نشینی کا عروج
ایک دن ذرۂ خوشید نما ہو جانا
دل میں آکر ترے تیروں نے بھی دیکھا ہوگا
درد کا اٹھ کے مرے دل پہ فدا ہو جانا
نگہ ناز کسی کی کہیں خالی نہ پھرے
دیکھ اے دل ہدف تیر قضا ہو جانا
باعثِ رنج ہوئے اور نہ راحت کا سبب
درد بننا ہمیں آیا نہ دوا ہو جانا
پر جبریل کی اے پیک صبا تجھ کو قسم
نامہ شوق مرا لے کے ہوا ہو جانا
دسترس ہوگئی صد شکر ترے قدموں تک
کام آیا مری قسمت کا رسا ہو جانا
کچھ اگر اس کے کرم کا ہو اشارہ واصفؔ
سہل ہے پھر مری حاجت کا روا ہو جانا
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 406)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.