میں کون ہوں کیا پوچھا ہے آ تجھ کو بتا دوں
میں کون ہوں کیا پوچھا ہے آ تجھ کو بتا دوں
اک دہکی ہوئی آگ ہوں چاہوں تو جلا دوں
میں پریم کا ساگر ہوں ترے پاس رہا ہوں!
منہ کھول ذرا تجھ کو بھی دو گھونٹ پلا دوں
یہ جاننا چاہتے ہو کہ ہوں راز میں کس کا؟
آ خاک میں ملنا ہے تو ہم راز بنا دوں
میں راز تو کھولوں گا مگر پیشتر اس کے
چاہتا ہوں کہ آدابِ قلندر ہی سکھا دوں
فطرت نے مجھے بخشا ہے وہ ذوقِ تماشا
بارنگ کو بے رنگ کے پردے میں چھپا دوں
مشرق سے اگر آؤں تو ہوں زیست کا پیغام
مغرب سے نکل آؤں تو ہر نقش مٹا دوں
خاموش رہوں خاک کا ذرہ ہے مرا نام
مستی کا بنوں نعرہ تو افلاک ہلا دوں
سر گم ہوں کسی سوز کا میں دکھ کا ہوں گانا
اک ہوک ہوں پتھر کے کلیجے کو ہلا دوں
طوفان سے کھیلا ہوں کہ ہوں موجِ تلاطم
ساحل جو نظر آئے سمندر میں گرا دوں
ناقوس ہوں میں وقت کا میں بانگِ درا ہوں
میں دوش کو فردا کبھی امروز بنا دوں
سچا ہوں ولی ہوں کہ میں اک رند علی ہوں
مخفی ہوں جلی ہوں میں تجھے کیسے بتا دوں
واصفؔ پہ گماں کرکے بڑا ظلم کیا ہے
بخشا ہے الٰہی نے بڑا دل کہ بھلا دوں
- کتاب : shab-e-raaz (Pg. 104)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.