جلوہ حسن و محبت آج ہر محفل میں ہے
جلوہ حسن و محبت آج ہر محفل میں ہے
قیس ہر صحرا میں ہے لیلیٰ ہر اک محفل میں ہے
جتنی دشواری حصول آرزوئے دل میں ہے
اتنی ہی لذت ہماری سعیٔ لاحاصل میں ہے
بند کی آنکھ اور ہمیشہ کے لیے نیند آگئی
ہائے کیا فرحت ہوائے کوچہ قاتل میں ہے
مختصر یہ ہے مری رنگینیٔ غربت کا حال
خون کا پیاسا ہے جو کانٹا مری منزل میں ہے
مستعد ہوں اب میں دل کے ناز اٹھانے کے لیے
اب تو ثابت ہوگیا مجھ پر کہ تو ہی دل میں ہے
وصلؔ کیوں کر وصل ہو ایسے تلون کیش سے
جو ابھی محفل سے باہر ہے ابھی محفل میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.