Font by Mehr Nastaliq Web

نہ کس طرح سے کروں نالہ و فغاں صیاد

یاس لکھنوی

نہ کس طرح سے کروں نالہ و فغاں صیاد

یاس لکھنوی

MORE BYیاس لکھنوی

    نہ کس طرح سے کروں نالہ و فغاں صیاد

    کہ چھیڑتا ہے تو ہر لحظہ ہر زماں صیاد

    پھنسایا تو نے ہزاروں کو دے کے دم ظالم

    رہے گی یاد ہمیں تیری داستاں صیاد

    ہمارے سامنے گردوں کا ظلم کیا شے ہے

    قفس کی ہم نے اٹھائی ہیں سختیاں صیاد

    چمن سے تونے مرا آشیاں اجاڑ دیا

    رکھا نشان بھی میرا نہیں وہاں صیاد

    قفس میں رکھ کے پروں کو ہمارے باندھ نہ تو

    نہ اس طرح سے ہو تو ہم سے بدگماں صیاد

    چمن میں آیا میں القصہ عشق میں گل کے

    سناؤں اپنی کہاں تک میں داستاں صیاد

    نہ پوچھو مجھ سے مری حسرتوں کا عالم یاسؔ

    کہ فصل گل میں چھڑاتا ہے بوستاں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے