Font by Mehr Nastaliq Web

ممکن ہی یہ نہیں ہے کہ تیر قضا کرے

یوسف گیاوی

ممکن ہی یہ نہیں ہے کہ تیر قضا کرے

یوسف گیاوی

MORE BYیوسف گیاوی

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    ممکن ہی یہ نہیں ہے کہ تیر قضا کرے

    قاتل جو کام تیری نکیلی ادا کرے

    کہتے ہیں ان بتوں کو مسیحائی آتی ہے

    ہے کوئی دردِ دل کی جو میری دوا کرے

    اے دوست ایک بار دکھا دے جو تو جمال

    پھر دیکھ لیں ہم آنکھ کو گر حوصلہ کرے

    دل نے مزے اٹھائے تری آرزو کے خوب

    اب کس امید پر ہوس ماسوا کرے

    دیکھو کرو نہ بزم میں یوں مجھ کو تم ذلیل

    ایسا نہ ہو کہ غیر بھی کچھ حوصلہ کرے

    یوسفؔ کے گھر وہ شوخ چلا آئے آپ سے

    اے جذب عشق تجھ میں اثر ہو خدا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے