قتل گر مد نظر ہے تیغ ابرو یار کھینچ
قتل گر مد نظر ہے تیغ ابرو یار کھینچ
کشتۂ ناز و ادا پر تو نہیں تلوار کھینچ
آئے تھے شوقِ شہادت میں پر ارماں ہم یہاں
رہ گیا قاتل ہمارا ہائے کیوں تلوار کھینچ
زندگی میں گر نہ آیا پاس تو کچھ غم نہیں
میری حسرت قبر لائے گی تجھ کو یار کھینچ
درد ہجراں کی مصیبت دیکھ کر ہنستا ہے تو
تجھ کو بت معلوم ہو جب عشق کی آزار کھینچ
آتے ہی فصل بہار ی کے بڑھا جوش جنوں
وحشتِ دل لائی مجھ کو جانب کہسار کھینچ
دل بہت بیتاب ہے فرقت سے تیرے ہند میں
سوئے یثرب پھر مجھے اے سید ابرار کھینچ
قتل ہونے پر بھی قاتل سے ہے اپنی التجا
دور اتنا آپ کو مجھ سے نہ اے خونخوار کھینچ
قلب ہو تیرا مجلا مثل آئینہ ظہیرؔ
خانۂ دل میں جو تو نقش جمال یار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.