Font by Mehr Nastaliq Web

قتل گر مد نظر ہے تیغ ابرو یار کھینچ

ظہیر عظیم آبادی

قتل گر مد نظر ہے تیغ ابرو یار کھینچ

ظہیر عظیم آبادی

MORE BYظہیر عظیم آبادی

    قتل گر مد نظر ہے تیغ ابرو یار کھینچ

    کشتۂ ناز و ادا پر تو نہیں تلوار کھینچ

    آئے تھے شوقِ شہادت میں پر ارماں ہم یہاں

    رہ گیا قاتل ہمارا ہائے کیوں تلوار کھینچ

    زندگی میں گر نہ آیا پاس تو کچھ غم نہیں

    میری حسرت قبر لائے گی تجھ کو یار کھینچ

    درد ہجراں کی مصیبت دیکھ کر ہنستا ہے تو

    تجھ کو بت معلوم ہو جب عشق کی آزار کھینچ

    آتے ہی فصل بہار ی کے بڑھا جوش جنوں

    وحشتِ دل لائی مجھ کو جانب کہسار کھینچ

    دل بہت بیتاب ہے فرقت سے تیرے ہند میں

    سوئے یثرب پھر مجھے اے سید ابرار کھینچ

    قتل ہونے پر بھی قاتل سے ہے اپنی التجا

    دور اتنا آپ کو مجھ سے نہ اے خونخوار کھینچ

    قلب ہو تیرا مجلا مثل آئینہ ظہیرؔ

    خانۂ دل میں جو تو نقش جمال یار کھینچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے