Font by Mehr Nastaliq Web

یہ بیخودی نے بھلایا ہے خانماں صیاد

ظہیر عظیم آبادی

یہ بیخودی نے بھلایا ہے خانماں صیاد

ظہیر عظیم آبادی

MORE BYظہیر عظیم آبادی

    یہ بیخودی نے بھلایا ہے خانماں صیاد

    نہیں ہے یاد کدھر چھوٹا آشیاں صیاد

    جو نکلے سوز دروں کا مرے دھواں صیاد

    تو جل کے خاک سیہ ہو یہ آسماں صیاد

    نہ ہو بہار دو روزہ پہ شادماں صیاد

    ضرور آئے گی گلشن میں پھر خزاں صیاد

    بتاؤں کیا کہ ہوں کیوں زار و ناتواں صیاد

    کسی کے عشق میں گھلتا ہوں شمع ساں صیاد

    لڑی جو آنکھ کسی سے تو محو ایسے ہوئے

    خودی کے ہاتھ سے جاتی رہی عناں صیاد

    جو ذبح کرتا ہے دکھلا دے اک نظر بھی چمن

    رہے نہ حسرت دیدار بوستاں صیاد

    چمن سے جیسے کیا آشیاں مرا معدوم

    الٰہی ویسے ہی ہوجائے بے نشاں صیاد

    رہا بھی کرتا نہیں ہے نہ ذبح کرتا ہے

    عجب عذاب میں ڈالے ہے مری جاں صیاد

    ہزار شکر کہ اب کے تو موسم گل میں

    ملا ہے خوبی قسمت سے مہرباں صیاد

    کسی کے ہجر میں گزری جو کیا بتاؤں تجھے

    کہ بے قراری ہے چہرہ ہی سے عیاں صیاد

    ہزار منتیں کیں گو ایاغؔ شیدا نے

    ہوا نہ موسم گل میں پہ مہرباں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے