یہ بیخودی نے بھلایا ہے خانماں صیاد
یہ بیخودی نے بھلایا ہے خانماں صیاد
نہیں ہے یاد کدھر چھوٹا آشیاں صیاد
جو نکلے سوز دروں کا مرے دھواں صیاد
تو جل کے خاک سیہ ہو یہ آسماں صیاد
نہ ہو بہار دو روزہ پہ شادماں صیاد
ضرور آئے گی گلشن میں پھر خزاں صیاد
بتاؤں کیا کہ ہوں کیوں زار و ناتواں صیاد
کسی کے عشق میں گھلتا ہوں شمع ساں صیاد
لڑی جو آنکھ کسی سے تو محو ایسے ہوئے
خودی کے ہاتھ سے جاتی رہی عناں صیاد
جو ذبح کرتا ہے دکھلا دے اک نظر بھی چمن
رہے نہ حسرت دیدار بوستاں صیاد
چمن سے جیسے کیا آشیاں مرا معدوم
الٰہی ویسے ہی ہوجائے بے نشاں صیاد
رہا بھی کرتا نہیں ہے نہ ذبح کرتا ہے
عجب عذاب میں ڈالے ہے مری جاں صیاد
ہزار شکر کہ اب کے تو موسم گل میں
ملا ہے خوبی قسمت سے مہرباں صیاد
کسی کے ہجر میں گزری جو کیا بتاؤں تجھے
کہ بے قراری ہے چہرہ ہی سے عیاں صیاد
ہزار منتیں کیں گو ایاغؔ شیدا نے
ہوا نہ موسم گل میں پہ مہرباں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.