Font by Mehr Nastaliq Web

جو پہلے ہی سوال پہ بوسہ عطا کرے

ضیا گیاوی

جو پہلے ہی سوال پہ بوسہ عطا کرے

ضیا گیاوی

MORE BYضیا گیاوی

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    جو پہلے ہی سوال پہ بوسہ عطا کرے

    ایسے سخی جوان کا داتا بھلا کرے

    ہم کو نجف کا دیکھنا دشوار ہوگیا

    آساں ہماری مشکلیں مشکل کشا کرے

    یا رب یہی دعا ہے کہ اب وہ بت حسیں

    دامن سے اپنے مجھ کو نہ ہرگز جدا کرے

    ہم جاں بلب ہیں یار کے گھر دھوم دھام ہے

    اندھیر ہے کہ ہم مریں وہ رت جگا کرے

    محفوظ وہ رہے گا عذابِ جحیم سے

    حبِ نبی سے دل کو جو روشن ضیاؔ کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے