خواجہ لقمان کی آزمایش۔ دفتردوم
دلچسپ معلومات
ترجمہ: مرزا نظام شاہ لبیب
حضرت لقمان اگرچہ غلام اور غلام زادے تھے لیکن باخدا اور حرص و ہوس سے پاک تھے۔ ان کا آقا بھی ظاہر میں تو مالک تھا لیکن در اصل ان کے مرتبے سے واقف اور دل سے ان کا غلام ہوگیا تھا۔ وہ ان کو کبھی آزاد کردیتا لیکن لقمان اپنا بھید چھپا کے رکھنا چاہتے تھے اور آقا ان کے خلافِ مرضی کوئی کام نہ کرناچاہتا تھا۔ اسے تو حضرت لقمان سے یہاں تک محبت وعقیدت ہوگئی تھی کہ جو کھانا ملازمین اس کے واسطے حاضر کرتے تو وہ ساتھ ہی لقمان کے پاس آدمی روانہ کرتا تاکہ پہلے وہ کھالیں اور ان کا الش وہ کھائے۔ وہ لقمان کا جھوٹا کھاتا اور خوش ہوتا تھا اور جو کھانا وہ نہ کھاتے اسے پھینک دیتاتھا۔ اور اگر کھاتا بھی تو بالکل بے دل اور بے بھوک کھاتا۔ یہاں تک نوبت پہنچ گئی تھی، ایک دفعہ کا اتفاق یہ کہ خربوزہ تحفے میں آیا اور لقمان اس وقت حاضر نہ تھے۔ مالک نے ایک غلام سے کہا جلدی جاؤ اور میرے فرزند حضرت لقمان کو تو بلالاؤ۔ جب لقمان آئے اور سامنے بیٹھے تو مالک نے چھُری لی اور خود خربوزہ کا ٹا اور ایک قاش لقمان کو دی۔
انہوں نے ایسے شوق و رغبت سے کھائی کہ مالک نے دوسری قاش دی یہاں تک کہ سترھویں قاش تک وہ اسی طرح ذوق شوق سے کھاتے رہے ۔جب صرف ایک قاش باقی رہی تو مالک نے کہا کہ اس کو میں کھاؤں گا تاکہ معلوم ہو کہ یہ کتنا میٹھا خربوزہ ہے۔ اس نے تو ایسا مزے لے کر کھایا ہے کہ دوسروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کھانے کو جی چاہا۔ جب مالک نے کھایا تو خربوزے کی کڑواہٹ نے حلق میں مرچیں سی لگادیں اور زبان میں آبلے پڑگئے۔ گھنٹہ بھر تک اس کی کڑواہٹ سے بد مزا رہا۔ پھر حیرت سے پوچھا کہ او عزیز تونے اس زہر کو کیوں نوش کیا اور اس قہر کو مہر کیوں سمجھ لیا۔ یہ بھی کوئی صبر ہے اور یہ صبوری کس سبب سے ہے۔ شاید تواپنی جان کا دشمن ہے ۔تونے کھانے سے بچنے کا حیلہ کیوں نہیں کیا۔ یہ ہی کہہ دیا ہوتا مجھے اس کے کھانے میں عذر ہے۔ ذرا توقف کیجئے۔
حضرت لقمان نے کہا کہ میں نے تمہارے نعمت بخشنے والے ہاتھ سے اس قدر کھایا ہے کہ مارے شرم کے دُہرا ہوا جاتا ہوں۔ اس لیے اے صاحبِ معرفت مجھے شرم آئی کہ ایک تلخ چیز تمہارے ہاتھ سے نہ کھاؤں۔ میرے تمام اعضا و جوارح تمہاری عطا سے پلے ہیں اور تمہارے ہی دانہ و دام میں اسیر ہیں۔اگر میں صرف ایک کڑوے پن پر واویلا مچانے لگوں تو خدا کرے سو راستوں کی خاک میرے اعضا وجوارح پر پڑے۔ تمہارے شکر بخشنے والے ہاتھ نے اس خربوزے میں کڑواہٹ کہاں چھوڑی تھی کہ میں اس کی شکایت کرتا۔
- کتاب : حکایات رومی حصہ اول (Pg. 69)
- مطبع : انجمن ترقی اردو (ہند) (1945)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.