Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

ایک شخص کا بے محنت حلال روزی طلب کرنا۔ دفترسوم

رومی

ایک شخص کا بے محنت حلال روزی طلب کرنا۔ دفترسوم

رومی

MORE BYرومی

    دلچسپ معلومات

    ترجمہ: مرزا نظام شاہ لبیب

    ایک شخص حضرت داؤد کے زمانے میں روزانہ یہ دعا کرتا تھا کہ اے خدا مجھے بے محنت روزی عطا کر۔ جب تونے کاہل، بیمار اور ناکارہ پیدا کیا ہے۔ تو زخمی پیٹھ کے گدھوں پر گھوڑوں اور اونٹوں کا بوجھ نہیں لادا جاسکتا۔ مجھے بے محنت ومشقت غیب سے ایسی روزی دے کہ میں سوا تجھ سے مانگنے کے اور کوئی کوشش نہ کرنے پاؤں۔

    بہت دن تک برابر یہی دعا کرتا رہا۔ مخلوق، اس کی لا حاصل طمع اور خدا سے زورا زوری کرنے پر ہنستی تھی کہ یہ لمبی ڈاڑھی والا کیا بیہودہ بکتا ہے۔ کسی نے اسے بھنگ تو نہیں پلادی۔ روزی حاصل کرنے کا طریقہ تو محنت و مشقت ہی ہے۔ اس کے خلاف کبھی نہیں ہوتا۔

    اس زمانے کے بادشاہ اور پیغمبر حضرت داؤد تھے جو بڑے صاحبِ کمال تھے لیکن ایسی شان وشوکت اور خدا رسی کے باوجود خدا نے ان کی روزی محنت و مشقت پر منحصر کی تھی۔ جب تک آپ زرہ تیار کرنے کی تکلیف نہ اٹھاتے آپ کو روزی میسر نہ آتی تھی۔ اس پر بھی ایک معمولی نکمّا آدمی حماقت سے یہ چاہے کہ بغیر محنت و تجارت روپے سے دامن بھر لے ایسا خزانہ تو دنیا میں کسی کو نہیں ملا، بھلا آسمان پر بے سیڑھی کے کون چڑھا، کوئی مذاق سے کہتا کہ ہمیں خوش خبری مل چکی جا اور اپنا خزانہ لے لے۔ کوئی کہتا کہ حضرت اگر خزانہ ہاتھ لگے کچھ ہمیں بھی دینا۔ لیکن وہ دُھن کا پکّا لوگوں کے طعن ومذاق اڑانے سے اپنی دعا اور گڑگڑا ناکم نہ کرتا تھا۔ جب اس نے دعاؤں کا تار باندھ دیا تو آخر اس نے جو سب کی سنتا اور مرادیں برلا تا ہے دعا سنی۔ چاہے دعا ناگوار ہو اور چاہے جلد بازانہ ہو لیکن آخر کار مانگنے والا ضرور پاتا ہے

    ایک دن صبح سویرے بہت ہی آہ وزاری سے وہ شخص اپنی دعا رٹ رہا تھا کہ یکا یک ایک گائے نے سینگ مار کر دروازہ توڑ ڈالا اور گھر میں گھس آئی۔ گائے تو بے جھجکے اس کے گھر میں آپہنچی اور اس نے اٹھ کر اس کے ہاتھ پیر باندھ دئے اور اس کے بعد بلا تامّل اسے ذبح کر کے فوراً قصّاب کے پاس لے گیا تاکہ اس کی کھال چھیل کر صاف کردے۔ گائے کے مالک نے بھی دیکھ لیا اور چلاّیا کہ ہائیں میری گائے تو بدک کر نکل گئی تھی۔ بتا تونے اسے کس طرح مار ڈالا۔ارے بھولے بدمعاش! چل عدالت میں فیصلہ ہوگا۔ اس نے کہا کہ میں خدا سے بے محنت روزی طلب کرتا تھا اور کس کس عاجزی منت سے دعا کرتا تھا۔ برسوں سے میرا کام دعا مانگنا تھا یہاں تک کہ خدا نے میرے پاس گائے بھیج دی۔ جب میں نے گائے دیکھی تو جھٹ کھڑا ہوگیا چوں کہ وہ میرا رزق تھا، میری مدتوں کی دعا قبول ہوئی اور مجھے روزی بے محنت ملی اس لیے میں نے اس کو ذبح کرڈالا۔ بس یہ جواب ہے۔ گائے کا مالک مارے غصے کے لال پیلا ہوگیا۔ اس کا گریبان پکڑا اور منہ پر چند گھونسے لگائے اور اس کو داؤ د نبیؑ کے پاس پکڑ کر لے چلا کہ اے ظالم چل تجھے اپنے کئے کی سزا دلاؤں۔ ارے دغاباز یہ دعا دعا کیا تم بکتا ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے بہت دعائیں مانگی ہیں اور اس خوشامد میں مدتوں اپنا خون آپ پیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میری دعا قبول ہوئی ہے۔

    مالک نے چیخنا شروع کیا کہ اے مسلمانو! ذرا یہاں آؤ اور اس کی بکو اس توسنو۔ یہ دعا مانگ کر میرا مال ہڑپ کرنے کا حق جتا تا ہے۔ اگر عالم میں یہی قانون ہوتا تو خالی دعا کرنے والے دولتِ دنیا کے مالک ہوجاتے۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو سارے اندھے فقیر دولت مند امیر بن جاتے۔ وہ تو رات دن یہی دعا کرتے رہتے کہ یا الٰہی تو ہم کو دےاندھوں کی محنت و مشقت سوا گڑگڑا کر دعا مانگنے کے اور کیا ہے لیکن بھیک سوا پانی اور روٹی کے انہیں اور کیا ملتا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ مسلمان ٹھیک بات کہتا ہے اور یہ دعا فروش ظالم ہے۔ایسی ایسی دعاؤں سے کوئی دولت مند کیسے ہوسکتا ہے اور ایاا فعل شریعت کی حدود میں کیوں کر آسکتا ہے۔ کوئی شخص کسی چیز کا مالک اسی حالت میں ہوسکتا ہے کہ یا خریدے یا بھیک سے حاصل کرے یا وصیت میں اپئے یا کوئی خوشی سے دے دے۔ پس یا تو گائے واپس دو یا قید خانے کی سیر کرو۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر کہتا تھا کہ اے رحیم و کریم میں نے مدتوں اسی آرزو میں دعائیں کی ہیں اور سوا تیرے ان سے کوئی واقف نہیں۔ توہی نے میرے دل میں دعا ڈالی، سینکڑوں امیدوں کے چراغ روشن کیے۔ میں نے وہ دعائیں خالی خولی نہیں کی تھیں بلکہ یوسف کی طرح کتنے ہی خواب دیکھے تھے۔ اس دغاباز نے مجھے اندھا کہا ہے اے خدا یہ اس کا قیاس ابلیسانہ ہے۔ بھلا میں نے اندھے پن سے دعا کب کی ہے۔

    میں نے سوا خدا کے کسی سے بھیک نہیں مانگی۔ اندھا تو اپنی نادانی کی بنا پر مخلوق سے سوال کرتا ہے مگر میں نے تو تجھ سے سوال کیا کہ تجھ پر ہر دشوار آسان ہے۔ مخلوق میرے بھید کو نہیں پہچانتی اور میری بات کو بیہودہ جانتی ہے۔ وہ بھی سچ کہتی ہے کیوں کہ سوا بھید کے جاننے والے عیبوں کو چھپانے والے کے اور دوسرا کون ہے کہ غیب داں ہو۔

    مدعی نے کہا کہ ابے میری طرف دیکھ اور سچ سچ کہہ۔ یہ آسمان کی طرف کیا دیکھتا ہے۔ یہ کیا پاکھنڈ بنایا ہے۔ دھوکے سے اپنی خدا رسی جتا رہاہے۔ جب تیرا دل ہی مردہ ہو تو کس سند سے آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ الغرض سارے شہر میں ہلکم مچ گئی اور اس دعا کرنے والے نے زمین پر سجدے میں سر رکھ دیا۔ کہ اے خدا اس بندے کو بدنام نہ کر۔ اگر میں بُرا بھی ہوں تو میری برائی کو فاش نہ کر ۔تو جانتا ہے کہ طویل راتوں میں کس کس عجز وزاری کے ساتھ تجھے پکارتاہوں۔ اگر میری عبادت کی قدر مخلوق کونہیں تو نہیں سہی مگر تجھ پر روشن ہے۔ اے خدا یہ لوگ مجھ سے گائے طلب کرتے ہیں۔ تونے گائے کیوں بھیجی۔ اس میں میری کوئی خطا نہیں تھی۔

    جب حضرت داؤد باہر تشریف لائے اور غل غپاڑا سنا تو پوچھا کہ کیا ماجرا ہے۔ مدعی نے آگے بڑھ کر عرض کی کہ اے نبی اللہ! میری گائے اس کے گھر میں گھس گئی۔ اس نے میری گائے کو ذبح کرلیا۔ اب آپ اس سے دریافت کریں کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔

    حضرت داؤد نے پوچھا کہ اے شخص! بتا تونے اس کی گائے کیوں ذبح کرڈالی ۔واہی تباہی باتیں نہ کر، معقول بات کر تاکہ اس دعوے کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس نے عرض کی کہ اے داؤد! میں سات سال دن رات یہی دعا مانگتا تھا کہ اے کریم ورحیم! مجھے حلال روزی بے محنت عطا فرما۔ شہر کی ساری خلقت کیا مرد اور کیا عورت سب واقف ہے اور بچے تک اس بات کی ہنسی کیا کرتے تھے۔ آپ کسی سے اس کی تصدیق فرمالیں کہ یہ پھٹے کپڑوں والا فقیر سچ ہے یا نہیں، اتنی مدت کی دعاؤں کے بعد ایک دن گائے میرے گھر میں آگئی۔ میری آنکھوں میں اندھیری آگئی۔ اس لیے نہیں کہ روزق مل گیا بلکہ اس خوشی میں کہ میرے اتنے برسوں کی دعا قبول ہوئی۔ میں نے گائے کو ذبح کر دیا کہ خدا کے شکر میں فقیروں پر تقسیم کردوں جس نے میرے دل کی مراد پوری کردی۔

    حضرت داؤد نے فرمایا کہ ان باتوں کو چھوڑ کر کوئی شرعی دلیل ہے تو وہ بیان کر۔ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ میں کسی معقول دلیل کے بغیر ایسا فیصلہ کردوں کہ شریعت میں باطل قانون چل پڑے ۔تجھے وہ گائے کسی نے بخشی یا تونے خریدی کہ تو اس کا مالک بن گیا۔ بس اینچ پیچ نہ کرو اس مسلمان کو قیمت ادا کر اور اگر پاس نہیں ہے تو قرض لے کر دے۔ اس نے کہا کہ اے بادشاہ! تم بھی یہی کہتے ہو جو یہ بے درد کہتے ہیں۔ پھر اس نے سچے دل سے آہ کی اور کہا کے اے میرے سوزِ دل کے جاننے والے توہی داؤد کے دل میں اس کی روشنی ڈال۔ یہ کہہ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ یہاں تک کہ داؤد کا دل ہل گیا۔ داؤدؑ نے کہا کہ اے گائے والے آج کے آج مہلت دے اور مقدمہ ملتوی کر تاکہ میں خلوت میں نماز پڑھوں اور یہ احوال اس راز جاننے والے سے دریافت کروں۔ میرا خلوت میں نماز کے لیے جانا تعلیم خلق کا ایک راستہ ہے۔

    پھر حضرت داؤد چپ چاپ تنہائی میں چلے گئے۔ آپ نے دروازہ بند کردیا اور محراب میں جاکر دعا میں مصروف ہوئے۔ جتنا بتانا تھا خدا نے بتا دیا اور داؤد علیہ السلام اس مقدمے کے طریق ِسزا سے واقف ہوگئے۔ دوسرے دن مدعی ومدعا علیہ داؤدؑ کے پاس حاضر ہوئے ۔پھر مقدمہ شروع ہوا اور مدعی نے سخت گالی گلوچ شروع کی کہ پیغمبرِ برحق کے عہد میں ایسا ظلمِ صریح ہورہاہے کہ گائے کو مار کر کھاگیا اور جواب دہی کے موقع پر اپنی خدا رسی کا فریب دتیا ہے۔ اے خدا کے رسول کیا یہ جائز ہے کہ گائے جو میری مِلک تھی وہ خدا نے اسے دے دی۔ حضرت داؤدؑ نے کہا کہ خاموش ہوجا اور اس کا پیچھا چھوڑ اور اس مسلمان کو اپنی گائے معاف کردے۔ اے جوان جب خدا نے تیرے گناہ کو پوشیدہ کیا ہے توتو بھی اس کی ستّاری کا حق ادا کر اور صبر کرلے۔ اس نے واویلامچانی شروع کی کہ یہ کیا حکم اور کیا انصاف ہے کہ مجھ غریب کے لیے نیا قانون وضع ہوا۔ اے داؤدؑ تمہارے عدل و انصاف سے تو زمین و آسمان معطّر ہیں لیکن جو ستم مجھ پرہوا ہے ایسا تو اندھے کتّوں پر بھی نہ ہواہوگا۔ اس زیادتی سے پتھر اور پہاڑ شق ہوجائیں گے۔ اسی طرح کی شکایتیں علانیہ کررہا تھا اور ظلم ظلم پکارتاتھا۔ اے نبی اللہ دیکھو مجھ پر ایسا ظلم نہ کرو اور خلافِ انصاف حکم نہ دو۔ حضرت داؤدؑ نے جب سب کچھ سن لیا تو حکم دیا کہ ارے بدمعاش اپنا سارا مال اس کے حوالے کر ورنہ تیرا معاملہ سخت ہوجائے گا اور تیرا ستم اس پر بھی آشکار ہوجائے گا۔

    اس نے اپنے سر پر خاک اڑائی، کپڑے پھاڑلئے اور کہا کہ آپ نے تو ظلم میں اور اضافہ کردیا۔ جب وہ باز نہ آیا تو حضرت داؤد نے اس کو اپنے قریب طلب فرمایا اور کہا کہ اے سیاہ بخت چوں کہ تیری تقدیر درست نہیں اس لیے تیرے ظلم کا نتیجہ آہستہ آہستہ ظاہر ہوا۔ دیکھ اس واویلا سے باز آ ،کہیں یہ واویلا تیری ہلاکت کا پیغام نہ بن جائے ۔جا تیرے بچے اور بیوی اس کے لونڈی غلام بنادیئے گئے ۔وہ دونوں ہاتھوں سے پتھر لے کر اپنا سینہ کوٹنے لگا اور اپنے جہل سے اِدھر اُدھر دوڑنے لگا۔ مخلوق بھی یہ حال دیکھ کر ترس کھانے لگی کیونکہ ان احکام کی اصلی وجہ سے ناواقف تھی۔ سب طرف دار واؤد کے پاس حاضر ہوکر عرض کرنے لگے کہ اے ہمارے شفیق نبی اللہ ! آپ کی ذات سے ایسا ظلم نہ ہونا چاہئے۔ آپ نے ایک بے گناہ پربے وجہ غصّہ کیا۔ داؤدؑ نے کہا کہ دوستو! اب وہ وقت آن پہنچا کہ اس کا چھپا ہوا بھید ظاہر ہو۔ سب مل کر ہمارے ساتھ فلاں جنگل میں دریا کے کنارے چلو بلکہ سب مرد عورت مل کر گھروں سے نکلو تاکہ تم سب اس پوشیدہ راز سے واقف ہوجاؤ۔ اس جنگل میں ایک بہت بڑا گھنا درخت ہے اس کی ڈالیوں سے ڈالیاں ملی ہوئی ہیں۔ وہ بہت تناور درخت ہے ۔مجھے اس کی جڑ میں سے بوئے خون آتی ہے۔ اس تناور درخت کے نیچے ایک آدمی کا خون کیاگیا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ اس بدبخت نے اپنے مالک کو قتل کر کے اس میں ڈال دیا ہے۔ یہ گائے والا در اصل مقتول کا غلام ہے۔ اس نے اپنے مالک کو قتل کر کے سارا مال لے لیا ہے۔ یہ جوان مدعا علیہ اسی مقتول کا فرزند ہے، یہ اس وقت بالکل ناسمجھ بچہ تھا اس لیے بے خبر ہے ۔ اب تک تو خد اکے حلم نے اس کے ظلم کو پوشیدہ رکھا تھا لیکن آخر میں اس بے حمیّت کی ناشکری اس حد کو پہنچی کہ اپنے مالک کے بچوں کو دیکھنا تک چھوڑ دیا ۔نہ نوروزکوان سے ملا نہ عید میں جاکر ملاقات کی۔ ان بے کسوں کو کبھی ایک لقمہ کھانا نہ دیا اور حقوقِ قدیم کو بالکل بھول گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک ادنیٰ گائے کے لیے اپنے مالک کے بچّے کو زمین پر پچھاڑے ڈالتا ہے۔ اس نے اپنے گناہ کا پردہ خودہی فاش کیا ہے۔ ورنہ شاید خدا اس کے جرم کو چھپا لیتا۔ اس ظلم کے زمانے میں کافر اور فاسق لوگ اپنا پردہ خود ہی چاک کیا کرتے ہیں۔ ظلم روح کی گہرائیوں میں چھپا رہتا ہے۔ ظالم اس کو لوگوں میں فاش کرتا ہے۔ جب سب لوگ جنگل میں اس درخت تک پہنچے تو حضرت داؤد نے حکم دیا کہ مدعی کے ہاتھ باندھ دیئے جائیں پھر اس سے فرمایا کہ اے کتے! پہلے تونے دادا کو قتل کیا۔ اس کی سزا میں تو مقتول کا غلام بنایا گیا۔ اس کے بعد اپنے مالک کو قتل کر کے تونے سب مال پر قبضہ کرلیا۔ تیری بیوی اسی مقتول کی لونڈتی تھی۔ اس نے بھی اپنے مالک پر جفا کی ہیں۔

    لہٰذا اب جولڑکے لڑکیاں اس کے ہاں پیدا ہوں وہ سب اسی مدعا علیہ کی مِلک ہیں اور تو بھی اس کا غلام ہے ۔ جو کچھ تونے کما یاسب اس کی مِلک ہوگی چوں کہ تونے مطابق شرع فیصلہ چاہا تھا۔ لہٰذا یہ تیرا فیصلہ ہے جا اور اس کی تعمیل کر۔ تونے اپنے مالک کو اسی جگہ بڑی بے دردی سے قتل کیا اور اسی جگہ تیرے ماملک نے کیسی کیسی منّت سماجت کی۔ اسی جگہ تونے اپنی چھری پردہ فاش ہونے کے خوف سے زمین میں دفن کردی تھی۔ اے لوگو ں زمین کو کھودو اور دیکھو مالک کا سر چھری کے ساتھ دفن ملے گا اور اس چھری پر اس کتّے کا نام بھی کندہ ملے گا۔ جب زمین کھودی گئی تو دیکھا کہ واقعی مقو ل کا سر اور وہ چھری زمین میں دفن تھے۔ خلقت میں شور پیدا ہوگیا۔ سب نے حضرت داؤدؑ سے اپنی بدظنی کی معافی مانگی۔ اس کے بعد حضرت داؤدؑ نے حکم دیا کہ فریادی آ اور اپنی فریاد کا نتیجہ دیکھ۔ پھر اسی چھری سے قاتل کو قصاص فرمایا۔

    خدا کا حکم اگر چہ بہت رعایت کرتا ہے لیکن جب بات حد سے گزر جاتی ہے تو رسو اکردیتا ہے۔ جب خود مدعی کے دعوے سے اصل بھید معلوم ہوگیا اور حضرت داؤد کا معجزہ دو ٹوک ثابت ہوا تو ساری خلقت سر برہنہ حاضر ہوئی اور سب نے مل کر بڑی عاجزی سے عرض کی کہ ہم فطرتی اندھے تھے، اس لیے آپ نے جو کچھ فرمایا تھا اس کا ہم نے اعتبار نہیں کیا۔ آپ ہمیں معاف فرمادیں۔ ایک ظالم مارا گیا اور ایک جہان زندہ ہوگیا اور ہر شخص کا خد ا پر از سرِ نو ایمان تازہ ہوگیا۔

    اے عزیز تو بھی اپنے نفس کو قتل کر کے ایک جہان کو زندہ کر۔ گائے کا مدعی تیرا ہی نفس ہے جس نے اپنے کو امیر اور بڑا آدمی بنالیا ہے اور وہ گائے کو ذبح کرنے والا تیری عقل ہے۔ تن کی گائے کو ذبح کرنے والے سے مخالفت و انکار نہ کر۔ عقل مقید ہے اور خد اسے ہمیشہ بے رنج ومحبت روزی حلال کی طالب ہے۔ تو جانتا ہے کہ خدا کے بے محنت روزی کس کو ملتی ہے؟ اس گائے یعنی نفس کی خواہش کو ذبح کردے۔ عقلِ سلیم اصل وارث بے کس اور بے سروسامان رہ گئی ہے اور خود غرض، بے درد نفس مالک اور سردار بن گیا۔ تو جانتا ہے کہ روزی بے محنت کیا ہوتی ہے؟ وہ روح کی غذا اور رزقِ پاک ہے۔ لیکن وہ گائے کی قربانی پر موقوف ہے۔ لہٰذا اے جستجو کرنے ولاے تو گائے کے قتل کو ایک چھپا ہوا خزانہ سمجھ۔

    مأخذ :
    • کتاب : حکایات رومی حصہ اول (Pg. 120)
    • مطبع : انجمن ترقی اردو (ہند) (1945)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے