ہولی گیت
ناچی ہے اتہاس کے آنگن میں ہولی کی یاد
جھول رہا ہے آگ کا جھولا پھول بنا پرہلاد
رت کی برات آئی
رنگوں کے ساتھ آئی
نغمے سنائے جا
موسم سہانا ہے
چہرے پر ماحول کے فطرت نے ماری پچکاری
دھرتی کی کوری چادر پر ہے دلکش گلکاری
فصلوں کی ڈولی سج کے پت جھڑ کے گاؤں چلی
دھن کی سہاگن دیکھو ننگے ننگے پاؤں چلی
بیوہ کی رات بوڑھے برگد کی چھاؤں چلی
بکھرا سنہرا سایہ اوشا کی لالی پھیلی
کرنوں کی زلفیں جیسے جیوت کی ڈالی پھیلی
گلی گلی میں رنگ کی بارش دو دن کی مہمان
کھلا چمن سا شہر بنا ہے گلدستہ انسان
آگ لگا کر
دھول اڑا کر نکلے گا ارمان
آج کھیلے گی ہل ہل کے ہولی
جوانوں کی ٹولی
رنگوں کی برسات جوان ہے
رشتے کی ہر گھات جوان ہے
چنچل من کا گیت جواں ہے
متوالوں کی ریت جواں ہے
دیکھ وہ سرحد پر ٹھگہارے
دیکھتے ہیں جذبات ہمارے
ایسے رنگ میں رنگنا پیارے
بچھڑے مل جائیں دو دھارے
ایسا نہ ہو سب چاند ستارے
ایسے اتسو کو سمجھیں ٹھٹھولی
جوانوں کی ٹولی
آج کھیلے گی ہل مل کے ہولی
جوانوں کی ٹولی
تاروں نے ساز چھیڑا دھرتی نے گیت گائے
موسم کا روپ نکھرا مستی کے ابر چھائے
گاؤں کی وہ معصوم راہ پر چلی کسان کی ناری
چلے مگر مڑ مڑ کے دیکھے جائے لاج کی ماری
ہونٹ کانپتے آنکھوں کی جوالا کو پیتے جائیں
گیت یہی گا گا کے اپنے زخم کو سیتے جائیں
ہلے ہونٹ جب نرموہی کی یاد نے ٹھیس لگائی
نورس کلیاں چٹک اٹھیں یہ گا کر لی انگڑائی
سکھی آوا پھگنوا دوارے
انگنوا میں رنگ برسے
نبیا بیرن سائیں سائیں ڈروائے آدھی رات
پپیہے کی پی پی رٹ جا رہے پروائی اٹھلات
انگنے میں تلسی کا بروا سانجھے دیوں سجھوتی
جانے کہہ کی سدھ میں نس دن رو رو کروں منوتی
سکھی سجنا بدیسوا سدھارے
انگنوا میں رنگ برسے
کبھی سانچ کو آنچ نہیں یہ ہولی کی تفسیر
اتحاد کے آسمان سے اڑے گلال عبیر
ایک چمن کے پنچھی ایک ترانہ چہکو
ایک گلستاں کے ہو پھول تو ساتھ مہکو
ہولی کی ریت جل کر دنیا سنوار گئی
ہوش میں آؤ بیکلؔ ہستی پکار گئی
رت کی برات آئی
رنگوں کے ساتھ آئی
نغمے سنائے جا
موسم سہانا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.