Font by Mehr Nastaliq Web

ہولی گیت

بیکل اتساہی

ہولی گیت

بیکل اتساہی

MORE BYبیکل اتساہی

    ناچی ہے اتہاس کے آنگن میں ہولی کی یاد

    جھول رہا ہے آگ کا جھولا پھول بنا پرہلاد

    رت کی برات آئی

    رنگوں کے ساتھ آئی

    نغمے سنائے جا

    موسم سہانا ہے

    چہرے پر ماحول کے فطرت نے ماری پچکاری

    دھرتی کی کوری چادر پر ہے دلکش گلکاری

    فصلوں کی ڈولی سج کے پت جھڑ کے گاؤں چلی

    دھن کی سہاگن دیکھو ننگے ننگے پاؤں چلی

    بیوہ کی رات بوڑھے برگد کی چھاؤں چلی

    بکھرا سنہرا سایہ اوشا کی لالی پھیلی

    کرنوں کی زلفیں جیسے جیوت کی ڈالی پھیلی

    گلی گلی میں رنگ کی بارش دو دن کی مہمان

    کھلا چمن سا شہر بنا ہے گلدستہ انسان

    آگ لگا کر

    دھول اڑا کر نکلے گا ارمان

    آج کھیلے گی ہل ہل کے ہولی

    جوانوں کی ٹولی

    رنگوں کی برسات جوان ہے

    رشتے کی ہر گھات جوان ہے

    چنچل من کا گیت جواں ہے

    متوالوں کی ریت جواں ہے

    دیکھ وہ سرحد پر ٹھگہارے

    دیکھتے ہیں جذبات ہمارے

    ایسے رنگ میں رنگنا پیارے

    بچھڑے مل جائیں دو دھارے

    ایسا نہ ہو سب چاند ستارے

    ایسے اتسو کو سمجھیں ٹھٹھولی

    جوانوں کی ٹولی

    آج کھیلے گی ہل مل کے ہولی

    جوانوں کی ٹولی

    تاروں نے ساز چھیڑا دھرتی نے گیت گائے

    موسم کا روپ نکھرا مستی کے ابر چھائے

    گاؤں کی وہ معصوم راہ پر چلی کسان کی ناری

    چلے مگر مڑ مڑ کے دیکھے جائے لاج کی ماری

    ہونٹ کانپتے آنکھوں کی جوالا کو پیتے جائیں

    گیت یہی گا گا کے اپنے زخم کو سیتے جائیں

    ہلے ہونٹ جب نرموہی کی یاد نے ٹھیس لگائی

    نورس کلیاں چٹک اٹھیں یہ گا کر لی انگڑائی

    سکھی آوا پھگنوا دوارے

    انگنوا میں رنگ برسے

    نبیا بیرن سائیں سائیں ڈروائے آدھی رات

    پپیہے کی پی پی رٹ جا رہے پروائی اٹھلات

    انگنے میں تلسی کا بروا سانجھے دیوں سجھوتی

    جانے کہہ کی سدھ میں نس دن رو رو کروں منوتی

    سکھی سجنا بدیسوا سدھارے

    انگنوا میں رنگ برسے

    کبھی سانچ کو آنچ نہیں یہ ہولی کی تفسیر

    اتحاد کے آسمان سے اڑے گلال عبیر

    ایک چمن کے پنچھی ایک ترانہ چہکو

    ایک گلستاں کے ہو پھول تو ساتھ مہکو

    ہولی کی ریت جل کر دنیا سنوار گئی

    ہوش میں آؤ بیکلؔ ہستی پکار گئی

    رت کی برات آئی

    رنگوں کے ساتھ آئی

    نغمے سنائے جا

    موسم سہانا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے