ایک عورت کی زبان سے
ایک عورت کی زبان سے
چل مری سندر سہیلی ہم کہیں چھپ جائیں گے
آج ہے ہولی کا دن پیتم مرے گھر آئیں گے
سامنے جب میں نہ آؤں گی بہت گھبرائیں گے
ہر جگہ ڈھونڈیں گے مجھ کو ڈھونڈھ کر شرمائیں گے
سامنے آ جاؤں گی پیتم کے خوش ہو جائیں گے
ان میں میں کھو جاؤں گی اور مجھ میں وہ کھو جائیں گے
میرے من کے چھیڑنے کو مجھ سے وہ بیٹھیں گے دور
میں جو الجھوں گی تو پیتم مسکرائیں گے ضرور
اٹھ رہی ہے لہر سی لہرا رہا ہے میرا من
ہو سکے تو چوم لوں گی آج پیتم کے چرن
چھین کر آکاش کی گودی سے تارے لاؤں گی
ان کو بھی واروں گی اور میں خود بھی واری جاؤں گی
سیج پھولوں کی بناؤں گی میں پیتم کے لئے
برہ سے کہہ دو کہ اب فرصت نہیں غم کے لئے
آج پیتم آئیں گے آئے گی میرے گھر بہار
دیکھ بگڑا تو نہیں اے آئنے میرا سنگھار
عودی عودی بدلیوں سے چھن کے گرتی ہے پھوار
آج پیتم آئیں گے میں ہو رہی ہوں بے قرار
بن گیا ہے ذرہ ذرہ میرے گھر کا چشم حور
آج پیتم آئیں گے آئے گا میرے گھر میں نور
چھڑ رہی ہے راگنی من کی رباب و چنگ سے
آج نہلاؤں گی پیتم کو گلابی رنگ سے
بھیگ جائیں گے تو دامن سے ہوا دوں گی انہیں
بند کر دوں گی دوارے آج روکوں گی انہیں
سرو کے سائے میں پاتی ہوں میں پیتم کی جھلک
آج ہر آواز میں سنتی ہوں ساغر کی کھنک
پی مرے گھر آئیں گے شاید نہیں تجھ کو خبر
اے پپیہے باورے ٹوپی کہاں بولا نہ کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.