Font by Mehr Nastaliq Web

آنکھوں میں تیری بزم تماشا لیے ہوئے

اصغر گونڈوی

آنکھوں میں تیری بزم تماشا لیے ہوئے

اصغر گونڈوی

MORE BYاصغر گونڈوی

    آنکھوں میں تیری بزم تماشا لیے ہوئے

    جنت میں بھی ہوں جنت دنیا لیے ہوئے

    پاس ادب میں جوش تمنا لیے ہوئے

    میں بھی ہوں اک حباب میں دریا لیے ہوئے

    کس طرح حسن دوست ہے بے پردہ آشکار

    صدہا حجاب صورت‌ و معنی لیے ہوئے

    صوفی کو ہے مشاہدہ حق کا ادعا

    صدہا حجاب دیدہ بینا لیے ہوئے

    تو برق حسن اور تجلی ہے یہ گریز

    میں خاک اور ذوق تماشا لیے ہوئے

    رگ رگ میں اور کچھ نہ رہا جز خیال دوست

    اس شوخ کو ہوں آج سراپا لیے ہوئے

    اصغرؔ ہجوم درد غریبی میں اس کی یاد

    آئی ہے ایک طلسم تمنا لیے ہوئے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے