Font by Mehr Nastaliq Web

خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں

عبدالحمید عدم

خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں

عبدالحمید عدم

MORE BYعبدالحمید عدم

    خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    اے گردش ایام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    ساقی تجھے اک تھوڑی سی تکلیف تو ہوگی

    ساغر کو ذرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    پہلے بڑی رغبت تھی ترے نام سے مجھ کو

    اب سن کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    ادراک ابھی پورا تعاون نہیں کرتا

    دے بادۂ گلفام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    حل کچھ تو نکل آئے گا حالات کی ضد کا

    اے کثرت آلام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    پھر آج عدمؔ شام سے غمگیں ہے طبیعت

    پھر آج سر شام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے