Font by Mehr Nastaliq Web

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

علامہ اقبال

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

علامہ اقبال

MORE BYعلامہ اقبال

    یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

    کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی

    تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے

    جو رہی خودی تو شاہی نہ رہی تو رو سیاہی

    نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے

    مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے تو نہ رہ نشیں نہ راہی

    مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں

    وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسم کج کلاہی

    یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کر

    کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی

    تو ہما کا ہے شکاری ابھی ابتدا ہے تیری

    نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی

    تو عرب ہو یا عجم ہو ترا لا الٰہ الا

    لغت غریب جب تک ترا دل نہ دے گواہی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    بخشی سلامت علی

    بخشی سلامت علی

    مأخذ :
    • کتاب : بالِ جبریل (Pg. 67)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے