Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

جو اہل دل ہیں وہ ہر دل کو اپنا دل سمجھتے ہیں

امیر بخش صابری

جو اہل دل ہیں وہ ہر دل کو اپنا دل سمجھتے ہیں

امیر بخش صابری

جو اہل دل ہیں وہ ہر دل کو اپنا دل سمجھتے ہیں

مقام عشق میں ہر گام کو منزل سمجھتے ہیں

تیری نظر کرم نے میکشوں کی آبرو رکھ لی

جہاں پر جھوم کر پٹھے تیری محفل سمجھتے ہیں

یہ وہ سحرِ محبت ہے یہاں پر ڈوبنے والے

جو طوفان میں اٹھیں موجیں انہیں ساحل سمجھتے ہیں

ابھی تک خاکِ مجنوں کے جو ذرے ہیں انہیں دیکھو

بگولے جو اٹھیں صحرا سے وہ محمل سمجھتے ہیں

جبینِ شوق کے سجدوں کی مستی یہ پکار اٹھی

کسی کے نقشِ پا کو ہم مہ کامل سمجھتے ہیں

امیرؔ صابری جس نے کیا ہے خود سے بیگانہ

خیالِ یار کو ہم مرشدِ کامل سمجھتے ہیں

مأخذ :
  • کتاب : کلام امیر صابری (Pg. 60)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے