Font by Mehr Nastaliq Web

یہ گرم اپنا داغ جگر ہو گیا

امیر مینائی

یہ گرم اپنا داغ جگر ہو گیا

امیر مینائی

MORE BYامیر مینائی

    یہ گرم اپنا داغ جگر ہو گیا

    پسینے میں خورشید تر ہو گیا

    غضب اشک باری سے عقدے پڑے

    کہ کوتاہ تار نظر ہو گیا

    ملے ہیں شرر کے مجھے بال و پر

    اڑا اور بے بال و پر ہو گیا

    دکھائی مرے عشق نے شان حسن

    تن زار موئے کمر ہو گیا

    کہاں ہم کہاں در ترا شاہ حسن

    فقیرانہ یاں بھی گزر ہو گیا

    وہاں پرزے پرزے ہوا خط امیرؔ

    یہاں چاک‌ میرا جگر ہو گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے