یہ گرم اپنا داغ جگر ہو گیا
یہ گرم اپنا داغ جگر ہو گیا
پسینے میں خورشید تر ہو گیا
غضب اشک باری سے عقدے پڑے
کہ کوتاہ تار نظر ہو گیا
ملے ہیں شرر کے مجھے بال و پر
اڑا اور بے بال و پر ہو گیا
دکھائی مرے عشق نے شان حسن
تن زار موئے کمر ہو گیا
کہاں ہم کہاں در ترا شاہ حسن
فقیرانہ یاں بھی گزر ہو گیا
وہاں پرزے پرزے ہوا خط امیرؔ
یہاں چاک میرا جگر ہو گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.