یہ سرور کیسا ہے ساقیا مجھے کیا نظر سے پلا دیا
یہ سرور کیسا ہے ساقیا مجھے کیا نظر سے پلا دیا
ہے متاع ہوش لٹی لٹی مجھے کیا تماشا بنا دیا
میرے دل کی دنیا بدل گئی میں نثار تیری نگاہ پر
مجھے دے کے تو نے سرور غم مجھے مرنا جینا سکھا دیا
میرا عشق محو نماز ہے مجھے اب کسی کی خبر نہیں
میرے دل ربا میں نے اپنا سر اب تیرے در پہ جھکا دیا
میں تیرا اثیر نظر رہوں یہی میرے دل کی ہے آرزو
مجھے قید کر کے میرے صنم میرا آشیاں جلا دیا
میرا عشق ہے در مضطرب با خدا نیاز حرم بنا
مجھے جب سے صورت یار نے در بت کدہ پہ بٹھا دیا
یہ دل و نگاہ کی بات ہے یہ نیاز و ناز عجیب ہے
راہ عشق میں مجھے یار نے اے فنا پیام بقا دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.