Sufinama

دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا

پرنم الہ آبادی

دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا

پرنم الہ آبادی

MORE BYپرنم الہ آبادی

    دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا

    یہ ایسا سبق ہے جو پڑھایا نہیں جاتا

    کمسن ہیں وہ ایسے انہیں ظالم کہوں کیسے

    معصوم پہ الزام لگایا نہیں جاتا

    آئینہ دکھایا تو کہا آئینہ رخ نے

    آئینے کو آئینہ دکھایا نہیں جاتا

    کیا چھیڑ ہے آنچل سے گلستاں میں صبا کی

    ان سے رخ روشن کو چھپایا نہیں جاتا

    حیرت ہے کہ مے خانے میں جاتا نہیں زاہد

    جنت میں مسلمان سے جایا نہیں جاتا

    اب موت ہی لے جائے تو لے جائے یہاں سے

    کوچے سے ترے ہم سے تو جایا نہیں جاتا

    اس درجہ پشیماں مرا قاتل ہے کہ اس سے

    محشر میں مرے سامنے آیا نہیں جاتا

    پرنمؔ غم الفت میں تم آنسو نہ بہاؤ

    اس آگ کو پانی سے بجھایا نہیں جاتا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    راحل فاروق

    راحل فاروق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY