Sufinama

عشق میں تیرے کوہ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو

شاہ نیاز احمد بریلوی

عشق میں تیرے کوہ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو

شاہ نیاز احمد بریلوی

MORE BYشاہ نیاز احمد بریلوی

    عشق میں تیرے کوہ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو

    عیش و نشاط زندگی چھوڑ دیا جو ہو سو ہو

    پوچھو نہ مجھ خراب سے یارو صلاح کار تم

    اپنے تو اب نہیں رہے ہوش بجا جو ہو سو ہو

    مجھ سے مریض کو طبیب ہاتھ تو اپنا مت لگا

    اس کو خدا پہ چھوڑ دے بحر خدا جو ہو سو ہو

    عقل کے مدرسہ سے اٹھ عشق کے مے کدہ میں آ

    جام فنا و بے خودی اب تو پیا جو ہو سو ہو

    لاگ کی آگ لگتے ہی پنبہ نمط یہ جل گیا

    رخت وجود جان و تن کچھ نہ بچا جو ہو سو ہو

    دیدہ و دل بہم ہیں ایک سوجھ میں اور بوجھ میں

    آنکھوں کے سامنے عیاں دل میں بسا جو ہو سو ہو

    ہجر کی جو مصیبتیں عرض کیں اس کے روبرو

    ناز و ادا سے مسکرا کہنے لگا جو ہو سو ہو

    ہستی کے اس سراب میں رات کی رات بس رہے

    صبح عدم ہوئی نمود پاؤں اٹھا جو ہو سو ہو

    دنیا کے نیک و بد سے کام ہم کو نیازؔ کچھ نہیں

    آپ سے جو گزر گیا پھر اسے کیا جو ہو سو ہو

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    علی وارث وارثی

    علی وارث وارثی

    سبحان احمد نظامی

    سبحان احمد نظامی

    عابدہ پروین

    عابدہ پروین

    عابدہ پروین

    عابدہ پروین

    سبحان احمد نظامی

    سبحان احمد نظامی

    عمران عباس

    عمران عباس

    عابدہ پروین

    عابدہ پروین

    مکرم علی وارثی

    مکرم علی وارثی

    فرید ایاز

    فرید ایاز

    علی وارث وارثی

    علی وارث وارثی

    مأخذ :
    • کتاب : دیوان نیاز بے نیاز (Pg. 152)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY