Font by Mehr Nastaliq Web

مے رہے مینا رہے گردش میں پیمانہ رہے

ریاض خیرآبادی

مے رہے مینا رہے گردش میں پیمانہ رہے

ریاض خیرآبادی

MORE BYریاض خیرآبادی

    مے رہے مینا رہے گردش میں پیمانہ رہے

    میرے ساقی تو رہے آباد مے خانہ رہے

    حشر بھی تو ہو چکا رخ سے نہیں ہٹتی نقاب

    حد بھی آخر کچھ ہے کب تک کوئی دیوانہ رہے

    رات کو جا بیٹھتے ہیں روز ہم مجنوں کے پاس

    پہلے ان بن رہ چکی ہے اب تو یارانہ رہے

    زندگی کا لطف ہو اڑتی رہے ہر دم ریاضؔ

    ہم ہوں شیشے کی پری ہو گھر پری خانہ رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے