راتوں کا تصور ہے ان کا اور چپکے چپکے رونا ہے
راتوں کا تصور ہے ان کا اور چپکے چپکے رونا ہے
اے صبح کے تارے تو ہی بتا انجام مرا کیا ہونا ہے
ان نورس آنکھوں والوں کا کیا ہنسنا ہے کیا رونا ہے
برسے ہوئے سچے موتی ہیں بہتا ہوا خالص سونا ہے
دل کو کھویا خود بھی کھوئے دنیا کھوئی دین بھی کھویا
یہ گمشدگی ہے تو اک دن اے دوست تجھے بھی کھونا ہے
تمیز کمال و نقص اٹھا یہ تو روشن ہے دنیا پر
میں چندن ہوں تو کندن ہے میں مٹی ہوں تو سونا ہے
تو یہ نہ سمجھ اللہ کہ ہے تسکین تیرے دیوانوں کو
وحشت میں ہمارا ہنس پڑنا دراصل ہمارا رونا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.