Font by Mehr Nastaliq Web

چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

ساغر صدیقی

چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

ساغر صدیقی

MORE BYساغر صدیقی

    چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

    ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے

    ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے

    ابھی فریب نہ کھاؤ بڑا اندھیرا ہے

    وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں

    انہیں کہیں سے بلاؤ بڑا اندھیرا ہے

    مجھے تمہاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں

    مرے قریب نہ آؤ بڑا اندھیرا ہے

    فراز عرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہ

    کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ بڑا اندھیرا ہے

    بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے

    مجھے یقین دلاؤ بڑا اندھیرا ہے

    جسے زبان خرد میں شراب کہتے ہیں

    وہ روشنی سی پلاؤ بڑا اندھیرا ہے

    بنام زہرہ جبینان خطۂ فردوس

    کسی کرن کو جگاؤ بڑا اندھیرا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے