ساحل پہ لائی اور سفینے ڈبو دیے
ساحل پہ لائی اور سفینے ڈبو دیے
یوں زندگی نے ہم کو ہنسایا کہ رو دیے
ضبط غم فراق کی مجبوریاں نہ پوچھ
دل میں کسی کو یاد کیا اور رو لیے
ان آنسوؤں کا دیکھنے والا کوئی نہیں
جن آنسوؤں میں ہم نے نے تبسم سمو لیے
فریاد کی ہے بات مگر اب سنے گا کون
اک ناخدا نے کتنے سفینے ڈبو دیے
- کتاب : سرودِ روحانی (Pg. 291)
- اشاعت : Second
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.