سیر ہے تجھ سے مری جان جدھر کو چلیے
سیر ہے تجھ سے مری جان جدھر کو چلیے
تو ہی گر ساتھ نہ ہووے تو کدھر کو چلیے
خواہ کعبہ ہو کہ بت خانہ غرض ہم سے سن
جس طرف دل کی طبیعت ہو ادھر کو چلیے
زلف تک رخ سے نگہ جاوے نہ اک دن کے سوا
شام کو پہنچیے منزل جو سحر کو چلیے
جب میں چلتا ہوں ترے کوچہ سے کترا کے کبھی
دل مجھے پھیر کے کہتا ہے ادھر کو چلیے
ان دنوں رات اسی فکر میں کٹتی ہے حسنؔ
صبح کب ہووے کہ پھر یار کے گھر کو چلیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.