Font by Mehr Nastaliq Web

سیر ہے تجھ سے مری جان جدھر کو چلیے

میر حسن دہلوی

سیر ہے تجھ سے مری جان جدھر کو چلیے

میر حسن دہلوی

MORE BYمیر حسن دہلوی

    سیر ہے تجھ سے مری جان جدھر کو چلیے

    تو ہی گر ساتھ نہ ہووے تو کدھر کو چلیے

    خواہ کعبہ ہو کہ بت خانہ غرض ہم سے سن

    جس طرف دل کی طبیعت ہو ادھر کو چلیے

    زلف تک رخ سے نگہ جاوے نہ اک دن کے سوا

    شام کو پہنچیے منزل جو سحر کو چلیے

    جب میں چلتا ہوں ترے کوچہ سے کترا کے کبھی

    دل مجھے پھیر کے کہتا ہے ادھر کو چلیے

    ان دنوں رات اسی فکر میں کٹتی ہے حسنؔ

    صبح کب ہووے کہ پھر یار کے گھر کو چلیے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عابدہ پروین

    عابدہ پروین

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے