Font by Mehr Nastaliq Web

فیض ملتا نہیں حق سے کبھی نسبت کے بغیر

شبیر ساجد مہروی

فیض ملتا نہیں حق سے کبھی نسبت کے بغیر

شبیر ساجد مہروی

MORE BYشبیر ساجد مہروی

    فیض ملتا نہیں حق سے کبھی نسبت کے بغیر

    بات بنتی نہیں مرشد سے عقیدت کے بغیر

    کوئی کتنا ہی کرے فیضِ نظر کا دعویٰ

    نامکمل ہے مگر شیخ کی صحبت کے بغیر

    زاہدو زہد سے حج تک ہے پہچنا مشکل

    راستہ طے نہیں ہوتا یہ محبت کے بغیر

    مانگنے والوں یہاں عرضِ تمنا ہے حرام

    جھولیاں بھرتی ہیں اس در پہ ضرورت کے بغیر

    کفر کافر کو ہو اور زہد ہو زاہد کو نصیب

    مجھ کو ہو کچھ نہ عطا درد کی دولت کے بغیر

    میرے رنگ ریز میں صدقے تیرے جاؤں مجھ پر

    رنگ کوئی نہ چڑھا اک تیری رنگت کے بغیر

    کثرتِ جلوہ سے یہ وہم بڑھا ہے ورنہ

    کوئی صورت ہی نہیں یار کی صورت کے بغیر

    زہد و تقویٰ ہو کہ یار کی مستی ساجدؔ

    اصل میں کچھ بھی نہیں ان کی عنایت کے بغیر

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    بخشی سلامت علی

    بخشی سلامت علی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے