فیض ملتا نہیں حق سے کبھی نسبت کے بغیر
فیض ملتا نہیں حق سے کبھی نسبت کے بغیر
بات بنتی نہیں مرشد سے عقیدت کے بغیر
کوئی کتنا ہی کرے فیضِ نظر کا دعویٰ
نامکمل ہے مگر شیخ کی صحبت کے بغیر
زاہدو زہد سے حج تک ہے پہچنا مشکل
راستہ طے نہیں ہوتا یہ محبت کے بغیر
مانگنے والوں یہاں عرضِ تمنا ہے حرام
جھولیاں بھرتی ہیں اس در پہ ضرورت کے بغیر
کفر کافر کو ہو اور زہد ہو زاہد کو نصیب
مجھ کو ہو کچھ نہ عطا درد کی دولت کے بغیر
میرے رنگ ریز میں صدقے تیرے جاؤں مجھ پر
رنگ کوئی نہ چڑھا اک تیری رنگت کے بغیر
کثرتِ جلوہ سے یہ وہم بڑھا ہے ورنہ
کوئی صورت ہی نہیں یار کی صورت کے بغیر
زہد و تقویٰ ہو کہ یار کی مستی ساجدؔ
اصل میں کچھ بھی نہیں ان کی عنایت کے بغیر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.