Font by Mehr Nastaliq Web

نہیں سنتے کہانی ساکنان لا مکاں میری

شاہ محسن داناپوری

نہیں سنتے کہانی ساکنان لا مکاں میری

شاہ محسن داناپوری

MORE BYشاہ محسن داناپوری

    نہیں سنتے کہانی ساکنان لا مکاں میری

    تمہیں سن لو کسی دن بندہ پرور داستاں میری

    فلک گھبرا گیا ہے گریۂ بے اختیاری سے

    اسی ڈر سے نہیں سنتا ہے ظالم داستاں میری

    عجب کیا ہے کہ دل اس سنگ دل سے موم ہو جائے

    کہ فریاد و فغاں کی ہم نوا ہے داستاں میری

    زمیں پر ہیں مرے قصے فلک پر ہیں مرے چرچے

    یہاں بھی داستاں میری وہاں بھی داستاں میری

    حسیں ہیں مہ جبیں ہیں دل ربا ہیں رحم دل بھی ہیں

    مگر ڈرتے ہیں وہ سنتے نہیں ہیں داستاں میری

    عدو کی انجمن آرائیاں یہ صاف کہتی ہیں

    کہ ہے ان محفلوں کی جان گویا داستاں میری

    وہ دن بھی آنے والا ہے وہ شب بھی آنے والی ہے

    سنائے گا تمہیں دل تخلیہ میں داستاں میری

    کہانی میری سن سن کر وہ بے خود ہوتے جاتے ہیں

    کہ ہے ڈوبی ہوئی رنگ اثر میں داستاں میری

    فلک آنکھیں چراتا ہے وہ بت آنکھیں دکھاتا ہے

    وہ سنتا ہے نہیں سنتا یہ ظالم داستاں میری

    میں کہتا ہوں وہ سنتے ہیں وہ کہتے ہیں میں سنتا ہوں

    مرا قصہ ہے ان کا ان کا قصہ داستاں میری

    فسانہ دل کا اب جا کر ہوا ہے دل نشیں ان کے

    نہ بھولے ہیں نہ بھولیں گے کبھی اب داستاں میری

    سر محفل جو شمع انجمن آنسو بہاتی ہے

    مگر یاد آ گئی ہے اس کو پچھلی داستاں میری

    خموشی سے کبھی گویائی سے سرگوشیاں کی ہیں

    وہی مضمون سر بستہ ہے گویا داستاں میری

    میں ان کی خواب گہ تک سر کے بل جاؤں گا اے محسنؔ

    انہیں سننی پڑے گی تخلیہ میں داستاں میری

    مأخذ :
    • کتاب : کلیات محسن
    • Author : شاہ محسن داناپوری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے