نہیں سنتے کہانی ساکنان لا مکاں میری
نہیں سنتے کہانی ساکنان لا مکاں میری
تمہیں سن لو کسی دن بندہ پرور داستاں میری
فلک گھبرا گیا ہے گریۂ بے اختیاری سے
اسی ڈر سے نہیں سنتا ہے ظالم داستاں میری
عجب کیا ہے کہ دل اس سنگ دل سے موم ہو جائے
کہ فریاد و فغاں کی ہم نوا ہے داستاں میری
زمیں پر ہیں مرے قصے فلک پر ہیں مرے چرچے
یہاں بھی داستاں میری وہاں بھی داستاں میری
حسیں ہیں مہ جبیں ہیں دل ربا ہیں رحم دل بھی ہیں
مگر ڈرتے ہیں وہ سنتے نہیں ہیں داستاں میری
عدو کی انجمن آرائیاں یہ صاف کہتی ہیں
کہ ہے ان محفلوں کی جان گویا داستاں میری
وہ دن بھی آنے والا ہے وہ شب بھی آنے والی ہے
سنائے گا تمہیں دل تخلیہ میں داستاں میری
کہانی میری سن سن کر وہ بے خود ہوتے جاتے ہیں
کہ ہے ڈوبی ہوئی رنگ اثر میں داستاں میری
فلک آنکھیں چراتا ہے وہ بت آنکھیں دکھاتا ہے
وہ سنتا ہے نہیں سنتا یہ ظالم داستاں میری
میں کہتا ہوں وہ سنتے ہیں وہ کہتے ہیں میں سنتا ہوں
مرا قصہ ہے ان کا ان کا قصہ داستاں میری
فسانہ دل کا اب جا کر ہوا ہے دل نشیں ان کے
نہ بھولے ہیں نہ بھولیں گے کبھی اب داستاں میری
سر محفل جو شمع انجمن آنسو بہاتی ہے
مگر یاد آ گئی ہے اس کو پچھلی داستاں میری
خموشی سے کبھی گویائی سے سرگوشیاں کی ہیں
وہی مضمون سر بستہ ہے گویا داستاں میری
میں ان کی خواب گہ تک سر کے بل جاؤں گا اے محسنؔ
انہیں سننی پڑے گی تخلیہ میں داستاں میری
- کتاب : کلیات محسن
- Author : شاہ محسن داناپوری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.